Bharat Express DD Free Dish

US-Iran Ceasefire: آئی ایم سی آر کے چئرمین محمد ادیب نے جنگ بندی کا کیا خیرمقدم، کہا- مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے عالمی نظام میں بڑی تبدیلی کے آثارنمایاں کر دیئے

آئی ایم سی آرکے چیئرمین نے ایران کی تاریخی مزاحمتی صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک صدیوں سے بیرونی دباؤ، حملوں اوربڑی طاقتوں کے مقابلے میں اپنی بقا اوردفاع کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتا آیا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی تاریخ یہ ظاہرکرتی ہے کہ وہ دفاعی استقامت رکھتا ہے اوراس نے روایتی طورپرجارحانہ توسیع پسندی کے بجائے مزاحمتی حکمتِ عملی اختیارکی ہے۔

نئی دہلی: انڈین مسلمس فارسول رائٹس (آئی ایم سی آر) کے چئرمین اورسابق رکنِ پارلیمنٹ محمد ادیب نے ایران، امریکہ واسرائیل کے مابین جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ حالیہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے دنیا کے بدلتے ہوئے سیاسی وتزویراتی منظرنامے کوواضح کردیا ہے اوریہ ثابت کیا ہے کہ جنگوں کا فیصلہ صرف اسلحہ نہیں بلکہ قوموں کے حوصلے، عزم اورجذبے سے ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اس تنازعہ نے موجودہ عالمی نظام (ورلڈ آرڈر) میں بڑی تبدیلی کے امکانات کونمایاں کردیا ہے۔

اپنے بیان میں محمد ادیب نے کہا کہ جنگ کے دوران عالمی حالات نہایت تشویشناک رخ اختیارکرگئے تھے، تاہم اس کے اختتام نے وقتی طورپرایک بڑا بوجھ کم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ نے ایک بنیادی حقیقت کوآشکارکیا ہے کہ دنیا میں طاقت کے توازن کی پرانی صورت اب برقراررہنا مشکل دکھائی دیتی ہے۔ ان کے بقول، ”یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ جذبہ جیتتا ہے، ہتھیارنہیں۔“ انہوں نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے مبینہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سخت دھمکیوں اورممکنہ حملوں کے باوجود ایران کے عوام ان مقامات پرجمع ہوئے، جہاں انہیں امریکی بمباری کا اندیشہ تھا۔ ان کے مطابق یہ طرزِعمل اس بات کی علامت ہے کہ جب کوئی قوم خطرات کا سامنا کرنے کے لیے ذہنی اوراخلاقی طورپرتیارہوجائے تومحض عسکری دباؤاس کی مزاحمت کوتوڑنہیں سکتا۔

حالیہ جنگ نے ٹرمپ اورنیتن یاہو کے پیدا کردیا مشکل مرحلہ: محمد ادیب

محمد ادیب نے اس کے برعکس یہ بھی کہا کہ بعض خلیجی ممالک نے اپنے شہریوں کوگھروں میں رہنے کی ہدایات جاری کیں، جواس امرکی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگی حالات میں صرف محدود دفاعی اقدامات کسی فیصلہ کن کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ ان کے مطابق حقیقی قوت عوامی استقامت، سیاسی بصیرت اوراجتماعی عزم میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ اوراسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہودونوں کے لیے ایک نہایت پیچیدہ اورمشکل مرحلہ پیدا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن سیاسی نظاموں اورقیادتوں کوکمزوریا تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، آج وہی قوتیں نسبتاً مضبوط پوزیشن سے مذاکرات کررہی ہیں، جبکہ دوسری جانب حملہ آورفریقوں کی سیاسی ساکھ اورحکمتِ عملی پرسوالات بڑھتے جا رہے ہیں۔

امریکہ اوراسرائیل دونوں کے لئے ایک بڑی سیاسی اورسفارتی شکست: محمد ادیب

انہوں نے مبینہ 10 نکاتی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے بالآخرایک ایسے فریم ورک کوقبول کیا ہے، جس میں اسی قیادت کے ساتھ بات چیت اورمفاہمت شامل ہے جسے پہلے ہٹانے یا کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ محمد ادیب کے مطابق یہ پیش رفت امریکہ اور اسرائیل دونوں کے لیے ایک بڑی سیاسی اورسفارتی پسپائی کے مترادف ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کے معاملے کو بھی اس جنگ کا ایک نہایت اہم تزویراتی پہلو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اہم سمندری گزرگاہ کے حوالے سے پہلے جودعوے کئے جا رہے تھے، ان کے برعکس موجودہ صورتحال یہ ظاہرکرتی ہے کہ خطے میں طاقت اورنگرانی کا عملی توازن اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی مستقبل کی علاقائی سیاست اورعالمی معیشت دونوں پردور رس اثرات مرتب کرسکتی ہے۔

تمام پیش رفت کے باوجود ابھی ختم نہیں خطرات: محمد ادیب

محمد ادیب نے کہا کہ اگر واقعی اس معاہدے کے تمام نکات پر سنجیدگی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے تویہ پیش رفت غیرمعمولی اوربعض معنوں میں انقلابی ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے زور دے کرکہا کہ خلیجی ممالک کو یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ ان کی سلامتی، استحکام او بقا کا انحصارباہمی تعاون، علاقائی مفاہمت اورمشترکہ سکیورٹی ڈھانچے پر ہے، نہ کہ مکمل طور پر بیرونی طاقتوں، خصوصاً امریکہ اوریورپ پر۔ تاہم محمد ادیب نے خبردارکیا کہ اس تمام پیش رفت کے باوجود خطرات مکمل طورپرختم نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق خاص طورپراسرائیل کی پوزیشن اور خدشات ابھی پوری طرح حل نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کومعاہدے کی حتمی شکل سے بہت کم وقت پہلے آگاہ کیا گیا اوراس نے خصوصاً لبنان اور وسیع تر جنگ بندی کے دائرہ کار سے متعلق اپنے تحفظات بھی ظاہر کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں امریکہ کے لیے نہایت محتاط، متوازن اوردوراندیش فیصلے ناگزیر ہیں، کیونکہ خطے میں کسی بھی غلط اندازے یا جلد بازی کے نتائج نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پربھی سنگین ہوسکتے ہیں۔

خطے میں امن، استحکام اورعالمی سطح  پربہترتوازن کا امکان

آئی ایم سی آرکے چیئرمین نے ایران کی تاریخی مزاحمتی صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک صدیوں سے بیرونی دباؤ، حملوں اوربڑی طاقتوں کے مقابلے میں اپنی بقا اوردفاع کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتا آیا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی تاریخ یہ ظاہرکرتی ہے کہ وہ دفاعی استقامت رکھتا ہے اوراس نے روایتی طورپرجارحانہ توسیع پسندی کے بجائے مزاحمتی حکمتِ عملی اختیارکی ہے۔ اپنے بیان کے اختتام پرمحمد ادیب نے کہا کہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں یورپ اورامریکہ کی یکطرفہ برتری بتدریج کمزورپڑسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرخلیجی ممالک دانشمندی سے کام لیں اورایران بھی ایک ذمہ دار، تعمیری اورتعاون پرمبنی کردارادا کرے، بجائے اس کے کہ وہ خود کوایک نئی سپرپاورکے طورپرمنوانے کی کوشش کرے، توخطے میں پائیدارامن، استحکام اورعالمی سطح پربہترتوازن کی راہ ہموارہوسکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read