Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel war impact

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ جنگی مہم آئندہ چار ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوج منصوبہ بندی کے مطابق کارروائیاں انجام دے رہی ہے اور کئی اہم عسکری اہداف کو پہلے ہی تباہ کیا جا چکا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے درمیان وزیر اعظم مودی نے اتوار کی دیر رات اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو سے ٹیلی فون پر رابطہ قائم کرکے خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں لیڈروں نے جاری کشیدگی، بڑھتے فوجی تصادم اور شہری سلامتی سے متعلق خدشات پر گفتگو کی۔

یہ تمام طلبہ پونے کے معروف تعلیمی ادارے اندرا اسکول آف بزنس اسٹڈیز سے تعلق رکھتے ہیں اور سالانہ تعلیمی مطالعاتی دورے کے تحت پانچ روزہ پروگرام میں شرکت کے لیے دبئی گئے تھے۔ ادارے کے حکام کے مطابق 40 طلبہ کو ہفتہ کے روز بھارت واپس آنا تھا جبکہ باقی 44 طلبہ و طالبات کی واپسی اتوار کو طے تھی، تاہم خطے میں اچانک پیدا ہونے والی جنگی صورتحال نے تمام پروازیں متاثر کر دیں۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال پر کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگی کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل فوجی حملوں نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عام شہریوں کی زندگی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خامنہ ای کی موت کی تصدیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے بیان کے بعد عالمی سطح پر زیر بحث آئی، جس کے بعد ایران میں 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا۔ تاہم اس واقعے نے بھارت میں ایک اہم سوال کو جنم دیا کہ آیا خامنہ ای بھارت کے دوست تھے، دشمن یا صرف ایک شراکت دار۔

اسرائیلی حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور جنگ سے بچنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں، اور توقع تھی کہ مذاکرات اگلے ہفتے بھی جاری رہیں گے۔

ان میزائلوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ہوا میں اپنا رخ بدل سکتی ہیں اور نیچی پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے پکڑنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ح

فتویٰ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ "اگر کوئی مسلمان یا اسلامی ریاست ان دشمنوں کی حمایت کرتی ہے تو اسے حرام سمجھا جائے گا۔

محمد ادیب نے کہا کہ ایران نے تھوپی ہی بارہ روزہ جنگ میں نہ صرف اسرائیل کو بلکہ خود کو سپر پاور کہنے والے امریکہ کو بھی شکست دی ہے اور دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ مسلمان صرف جوتے ہی نہیں سلتا وہ حیران کرنے والی فاتح میزائل بھی بناتا ہے ۔

صہیونی اخبار یدیعوت آحارونوت نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے وسیع پیمانے پر میزائل حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کی معیشت تقریباً مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے