Bharat Express DD Free Dish

Indian student

India's Education System: آج سے تقریباً 150 سال پہلے میکالے کے دور میں شروع ہونے والی نوآبادیاتی تعلیمی پالیسیوں کے اثرات پر آج بھی بحث جاری ہے، لیکن موجودہ دور میں بھارت کے تعلیمی نظام کو درپیش بحران نے ایک نیا سوال کھڑا کردیا ہے۔ نریندر مودی حکومت کے دور میں تعلیم اور روزگار سے متعلق بڑے دعووں کے باوجود لاکھوں نوجوان مسابقتی امتحانات، مہنگی کوچنگ اور محدود سرکاری ملازمتوں کے درمیان پستے نظر آتے ہیں۔

سترہ  سالہ بھارتی طالب علم پرنَو نے اپنی غیر معمولی تعلیمی کامیابی سے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے ملک کا نام روشن کیا ہے۔ پرنَو کو امریکہ کی ایک معروف یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے تقریباً 3.55 کروڑ روپے کی اسکالرشپ حاصل ہوئی ہے۔

کرناٹک کے طالب علم ساکیت سرینواسیا کی لاش کیلیفورنیا کے ٹلڈین ریجنل پارک علاقے سے برآمد ہوئی ہے۔ چھ دن تک جاری رہنے والے سرچ آپریشن کے بعد پولیس نے لاش حاصل کی۔ موت کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں…

جرمنی میں زیرِ تعلیم تلنگانہ کے طالب علم تھوکلا رتک ریڈی کی نئے سال کے دن اپارٹمنٹ میں آتشزدگی کے باعث موت ہو گئی۔

محمد نظام الدین کی موت صرف ایک شخص کا سانحہ نہیں، بلکہ وہ ایک بڑی حقیقت کی نمائندگی کرتا ہے — کہ ترقی یافتہ معاشرے میں بھی نسلی امتیاز، غلط فہمی اور طاقت کے ناجائز استعمال سے کوئی محفوظ نہیں۔

اس حوالے سے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے آرمینیا کے وزیر خارجہ Ararat Mirzoyan سے بات چیت کی ہے۔ آرمینیا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ بحران کے وقت مسلسل رابطہ اور قریبی تعاون کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔

کانگریس جنرل سکریٹری انچارج کمیونیکیشن جے رام رمیش نے الزام لگایا ہے کہ مودی حکومت ہندوستان اور ہندوستانیوں کی عزت کے تحفظ میں مسلسل ناکام ہو رہی ہے۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکمے نے رنجنی کا ویزہ رد کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ ’’حماس کی حمایت کرنے والی سرگرمیوں میں ملوث تھی‘‘۔ لیکن محکمے نے ان سرگرمیوں کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

سینئر عہدیدار نے کہاکہ ہم نے اب تک 828 طلبہ کو ایچ آئی وی پازیٹیو کے طور پر شناخت کیا ہے۔ جن میں سے 47 طلباء خطرناک انفیکشن کی وجہ سے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔بہت سے طلباء ملک بھر کے ممتاز اداروں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے تریپورہ سے باہر چلے گئے ہیں۔

امریکہ میں ہند نژاد طلباء کی موت کا یہ پہلا یا دوسرا واقعہ نہیں ہے۔ ایسے کیسز مسلسل منظر عام پر آ رہے ہیں۔ 6 اپریل کو بھی اوما ستیہ سائی گڈے نامی ہندوستانی طالب علم کی موت کا معاملہ سامنے آیا تھا۔