Bharat Express DD Free Dish

Indian Politics

پیر کے روز مغربی بنگال میں اپوزیشن لیڈر رتبرتا بنرجی کی قیادت میں ایک باغی گروپ نے آل انڈیا ترنمول کانگریس کے لیے نئی قیادت کے ڈھانچے کا اعلان کیا تھا۔ باغیوں نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی پارٹی میں سرپرست (مینٹور) کا کردار ادا کریں۔

حالیہ سیاسی پیش رفت کو شیو سینا (ادھو) کے لیے ایک اور بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ پارٹی پہلے ہی اندرونی اختلافات اور ممکنہ بغاوت کی قیاس آرائیوں کا سامنا کر رہی تھی۔ حال ہی میں چھ ارکانِ پارلیمنٹ نے پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی، جس کے بعد جماعت میں ممکنہ تقسیم کی خبریں زور پکڑگئی تھیں۔

ادھو ٹھاکرے گروپ کے چھ ارکان پارلیمنٹ نے شندے گروپ کا دامن تھام لیا ہے، جن میں سنجے ہری بھاؤ جادھو، بھاؤ صاحب راجارام واکچورے، اوم پرکاش بھوپال سنگھ  نمبالکر، سنجے دینا پاٹل، سنجے اتم راؤ دیشمکھ اور ناگیش باپوراؤ پاٹل اشٹیکر شامل ہیں۔

پون کھیڑا نے وزیراعظم مودی کی جانب سے ملاقات کے دوران تحریری نوٹس سے خطاب کرنے پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو بار بار پرچی دیکھ کر گفتگو کرنا پڑی، جس پر انہوں نے طنزیہ انداز میں انہیں ’’سلپس پی ایم‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت جیسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے سربراہ کو کسی بھی عالمی رہنما کے سامنے اس انداز میں پیش نہیں آنا چاہیے تھا۔

ہگلی میں پی ایم کسان کی 23ویں قسط جاری، متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں سے بنگال کی معیشت کو نئی رفتار ملے گی۔ 

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا (یو بی ٹی) میں مبینہ ’’آپریشن ٹائیگر‘‘ کے باعث بڑے پیمانے پر اراکینِ پارلیمنٹ کے ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا میں شامل ہونے کی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ 

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے کہا کہ اپنی تنظیمی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈالنے کے بجائے اپوزیشن کو خود احتسابی کرنی چاہیے۔ قرآن کی آیت کا حوالہ دے کر اویسی نے اپوزیشن جماعتوں کو نصیحت دی۔

یوپی کے وزیر اوم پرکاش راج بھر کا دعویٰ، رام گوپال یادو نے ایک فہرست تیار کرکے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو سونپ دی ہے۔ راج بھر کے اس دعوے پر اکھلیش یادو نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ ’’آخر یہ کہانی کب تک چلتی رہے گی؟‘‘

سنجے راؤت نے الزام لگایا کہ پارٹی میں پھوٹ ڈالنے کے لیے بعض اراکین پارلیمنٹ کو مالی لالچ دی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہر رکن پارلیمنٹ کو 15 کروڑ روپے پہنچائے گئے، جس کے بعد وہ ناندیڑ، پونے اور دیگر مقامات سے چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے روانہ ہوئے۔ 

پرینکا چترویدی نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’’بی جے پی اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ سپولوں کا جھنڈ جمع کرکے انہیں دودھ پلائے گی تو وہ صرف اپوزیشن کو ہی ڈسیں گے۔ آپ کی باری بھی آئے گی، کیونکہ سانپ کی فطرت ہی ڈسنا ہے۔ آج اگر ہماری باری ہے، کل آپ کی بھی ہوسکتی ہے۔‘‘