Lok Sabha Monsoon Session: کلیان بنرجی کو معطل کرنے کی تحریک لوک سبھا میں منظور، خواتین ارکان پارلیمنٹ کے خلاف مبینہ نازیبا رویے اور نامناسب زبان کے استعمال پر ہوئی کارروائی
کاکولی گھوش دستیدار نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر بھی کلیان بنرجی کو ایوان سے نکالنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے احاطے میں مبینہ طور پر بار بار زبانی بدسلوکی، خواتین مخالف تبصروں اور نامناسب رویے کے الزامات عائد کیے تھے۔
No Debate Until Education Minister Resigns: ’’وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے تک کوئی بحث نہیں ہوگی‘‘ راجیہ سبھا میں ملکارجن کھڑگے کی قیادت میں اپوزیشن کا سخت احتجاج
آج اپوزیشن ارکان نے پارلیمنٹ کے احاطے میں حکومت کے خلاف سیاہ لباس پہن کر احتجاج کیا۔ اس احتجاج میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر(قائد حزب اختلاف) راہل گاندھی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور پرینکا گاندھی سمیت کئی رہنما موجود تھے۔
Rahul-Priyanka Released: راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو دہلی پولیس نے کیا رہا، کانگریس کا وزیراعظم مودی اور وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ برقرار
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے الزام لگایا کہ کانگریس رہنماؤں کے خلاف پولیس کارروائی حکومت کے خوف کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے پیر کے روز مظاہرین پر مبینہ لاٹھی چارج کے معاملے پر وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ امت شاہ کو بھی نشانہ بنایا۔
Arrest of Rahul Gandhi and Priyanka Gandhi: وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب احتجاج کے مقام سے اٹھا کر راہل گاندھی کو چھترسال اسٹیڈیم لے گئی دہلی پولیس، مندر مارگ تھانے میں ہیں پرینکا گاندھی واڈرا
اطلاعات کے مطابق احتجاج کے دوران اپوزیشن کے متعدد ارکان پارلیمنٹ اور کارکن وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر پہنچ گئے تھے۔ کچھ دیر بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے رہنماؤں اور مظاہرین کو وہاں سے ہٹا کر مختلف مقامات پر منتقل کیا اور بھیڑ کو منتشر کر دیا۔ ذرائع کے مطابق پرینکا گاندھی واڈرا کو مندر مارگ تھانے، راہل گاندھی کو چھترسال اسٹیڈیم اور کئی دیگر ارکان پارلیمنٹ کو کنگز وے کیمپ کے علاقے میں لے جایا گیا ہے۔
Rahul-Priyanka Detained by Delhi Police: راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو دہلی پولیس نے کیا گرفتار، وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب احتجاج کے دوران متعدد کانگریسی لیڈران اور کارکن بھی ہوئے گرفتار
کانگریس کا احتجاج نیٹ-یو جی 2026 پیپرلیک معاملے اور غیر مسلح طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر ایک روز قبل پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے بعد کیا گیا۔ پرینکا گاندھی واڈرا نے گرفتاری پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ بزدل ہیں۔ یہ خوف زدہ ہیں۔ ہم ان سے خوف زدہ نہیں ہیں۔ یہ ہم سے خوف زدہ ہیں۔‘‘
Protest at Lok Kalyan Marg: طلبا پر لاٹھی چارج کے خلاف راہل گاندھی، ملکارجن کھڑگے اور کانگریس کے کئی ارکان پارلیمنٹ کا لوک کلیان مارگ پر احتجاج، وزیر اعظم، وزیرداخلہ اور وزیرتعلیم کے استعفوں کا مطالبہ
کانگریس رہنماؤں نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن نے نیٹ-یو جی پیپر لیک معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ کانگریس کے لیڈروں کا وزیراعظم کی رہائش گاہ کی جانب پیدل مارچ۔
Amit Shah & Dharmendra Pradhan Hold Meeting: پیپر لیک معاملے پر احتجاج کے درمیان وزیرداخلہ امت شاہ اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی تقریباً چار گھنٹے طویل ملاقات
احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے یہ بیان جاری کیا کہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات گردش کر رہی ہیں کہ گیتانجلی نامی 12 سالہ بچی پر حملہ کیا گیا، اس کے بال کھینچے گئے، اس کے سر میں چوٹ لگی اور تقریباً 40 سے 50 دیگر افراد کے سر پھوڑ دیے گئے۔ پولیس نے کہا ہے کہ یہ معلومات غلط ہیں۔
Priyanka Gandhi on Student Protest: ’’بحث کے بجائے طلبا پر آنسو گیس کے گولے برسا رہی ہے حکومت‘‘ پرینکا گاندھی نے تعلیمی پالیسی کے معاملات پر حکومت کو بنایا تنقید کا نشانہ
پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن تعلیمی شعبے سے متعلق اہم مسائل پر بحث کا مطالبہ کر رہی ہے، لیکن اسی معاملے پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
Where did that 56-inch chest: ’وہ 56 انچ کا سینہ کہاں گیا؟ ملکارجن کھڑگے نے نیٹ، رام مندر ٹرسٹ اور ’طنزیہ تبصروں‘ پر وزیراعظم مودی کو گھیرا
کھڑگے نے وزیراعظم کے لہجے پر اعتراض کیا اور کہا کہ حکومت کے سربراہ کو سیاسی طعنوں کے بجائے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا ’’وزیراعظم نریندر مودی کا واحد کام دوسروں پر طنز کرنا اور طنزیہ تبصرے کرنا رہ گیا ہے۔ پہلے عوام کے سامنے اپنی ساکھ ثابت کریں۔ آپ کا وہ ’56 انچ کا سینہ‘ کہاں گیا؟ آج آپ دوسروں پر تنقید کرتے ہیں، لیکن میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے ملک کے لیے آخر کیا کیا ہے؟‘‘
Parliament’s Monsoon Session: ’’ہر آواز کو موقع اور ہر خیال کو احترام ملنا چاہیے، یہی پارلیمنٹ کا کردار ہے‘‘ مانسون اجلاس سے قبل وزیر اعظم نے بامعنی بحث ومباحثے پر دیا زور
وزیراعظم مودی نے کہا ’’جہاں حقائق اور دلیل ہوتی ہے، وہاں طوفان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ اگر دلیل مضبوط ہو تو پُرسکون ذہن سے بھی اپنی آواز کو بلند کیا جا سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حقائق اور دلیل کے ساتھ ایوان کی بحث کو مزید بامعنی بنایا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہر آواز کو موقع ملنا چاہیے اور ہر خیال کا احترام ہونا چاہیے، یہی پارلیمنٹ میں ان کا کردار ہے۔





