INDIA Alliance Meeting: اپوزیشن پارٹیوں کا 2 سے 8 اکتوبر تک ملک گیر احتجاج، 6 اکتوبر کو الیکشن کمیشن تک مارچ، ’انڈیا‘ بلاک کا بڑا فیصلہ
’انڈیا‘ اتحاد کی ساڑھے تین گھنٹے جاری رہنے والی میٹنگ میں 20 جماعتوں کی شرکت، ملک بھر میں ’سیو ڈیموکریسی مارچ‘ نکالنے کا اعلان، اپوزیشن لیڈران اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کا وقت مانگیں گے۔
Rahul Gandhi backs Delhi students’ protests: ’’خواتین کے خلاف جرائم کا حل انہیں گھروں میں بند کرنا نہیں، بلکہ سڑکوں کو محفوظ بنانا ہے‘‘ دہلی میں طلبہ کے احتجاج کو راہل گاندھی کی حمایت
کانگریس لیڈر نے نوجوان خواتین، خصوصاً جنریشن زیڈ سے بڑی تعداد میں احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو تحفظ دینے کے لیے سڑکوں کو محفوظ بنانا اور مجرموں کو فوری سزا دینا ضروری ہے۔
Rahul Gandhi Targets EC: ایس آئی آر معاملے پر راہل گاندھی کا حملہ، کہا۔ ’گیانیش کمار تو جائیں گے، جس سسٹم نے ان سے یہ کروایا، اس کا بھی ہوگا حساب‘
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ بیلا اسٹیٹ کی جھگی بستی میں 728 افراد رہتے ہیں، لیکن SIR کے بعد ووٹر لسٹ میں صرف ایک شخص کا نام باقی بچا ہے، جبکہ 727 نام حذف کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کئی دہائیوں سے یہاں رہ رہے ہیں اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ساتھ 2025 کے دہلی اسمبلی انتخابات میں بھی ووٹ ڈال چکے ہیں۔ راہل گاندھی کے مطابق، 2023 میں ان کے گھر توڑ دیے گئے تھے، لیکن اس کے باوجود یہ لوگ کہیں نہیں گئے اور اب بھی وہیں رہ رہے ہیں۔
Gen-Z Protest Is Like JP Aandolan: ’جین-زی احتجاج جے پی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے‘، شنکراچاریہ نے کہا- مطالبات فوری مانے جائیں
شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے نوجوانوں کے احتجاج کا موازنہ تاریخی جے پرکاش نارائن (جے پی) تحریک سے کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو مظاہرین کی جائز مانگوں پر فوری توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس تحریک کو دبانے یا اسے غیر ضروری طور پر طول دینے کی کوشش کی گئی تو ملک میں ایک نئی سیاسی نسل اور نئے لیڈر ابھر سکتے ہیں۔
Amit Shah Congress Challenge: امت شاہ کی کانگریس کو دوٹوک للکار، کہا- بے بنیاد دعوؤں کے بجائے اعداد و شمار کے ساتھ کریں بات
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو کانگریس پر حملہ تیز کرتے ہوئے سابق یو پی اے حکومت کے دوران بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے دوران ریلوے پر ہونے والے اخراجات اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا سابقہ حکومت سے موازنہ کیا۔
SIR Controversy: ایس آئی آر پر این ڈی اے میں پھوٹ کے آثار! بی جے پی کے 3 بڑے اتحادی الیکشن کمیشن کے سامنے، مانگی وضاحت
چراغ پاسوان کی ایل جے پی (رام ولاس)، اپیندر کشواہا کی آر ایل ایم اور چندرا بابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی نے انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالات کے درمیان کمیشن سے اپنا موقف واضح کرنے کو کہا، کہا- عوام کا اعتماد برقرار رہنا ضروری۔
Captain Amarinder Singh: ’بی جے پی میں آنے کے بعد مجھے کچھ نہیں ملا‘، پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کا بڑا بیان، کہا- کانگریس بھی شاید واپس نہ لے
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن امریندر سنگھ نے اپنے سیاسی مستقبل کو لے کر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد گزشتہ چار برسوں میں انہیں کوئی خاص ذمہ داری یا کردار نہیں ملا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ کانگریس اب انہیں دوبارہ پارٹی میں شامل کرے گی۔
Sonia Gandhi Electoral Roll Matter: سونیا گاندھی کے ووٹر لسٹ معاملے میں ریویژن پٹیشن منظور، 29 ستمبر کو ہوگی دوبارہ سماعت
راؤز ایونیو کورٹ کے پرانے حکم کو منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ عدالت بھیجا گیا، درخواست میں 1980 کی ووٹر لسٹ میں نام شامل ہونے سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے۔
Rahul Gandhi Event Row: ’چھاتروں کی گونج‘ میں پی ایم مودی کی مِمی کری پر ہنگامہ، این ڈی اے کا حملہ، اپوزیشن نے کہا- اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش
راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی مِمی کری پر بی جے پی اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ این ڈی اے کے لیڈروں نے اسے وزیراعظم کے عہدے کی توہین قرار دیا، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے کہا کہ تعلیم اور نوجوانوں کے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے تنازع کھڑا کیا جارہا ہے۔
Hamid Ansari Statement: حامد انصاری کے بیان پر سیاسی ہنگامہ، نہرو کے پرانے بیان کے حوالے سے ہندو دائیں بازو کی فرقہ واریت پر نئی بحث
نئی دہلی میں منعقدہ اے جی نورانی میموریل لیکچر میں حامد انصاری نے اے جی نورانی کی تحریروں اور قوم پرستی سے متعلق ان کے خیالات پر گفتگو کی۔ اسی دوران انہوں نے نورانی کی کتاب کے تعارف میں درج جواہر لال نہرو کے ایک پرانے بیان کا حوالہ دیا۔ انصاری کے مطابق نورانی نے اپنی کتاب میں وزارت خارجہ کے افسران کی ایک میٹنگ کے دوران نہرو کے کہے گئے الفاظ کا ذکر کیا تھا، جنہیں اس وقت کے خارجہ سکریٹری جگت سنگھ گنڈیویا کے ریکارڈ سے جوڑا گیا تھا۔ انصاری نے نورانی کی کتاب کے حوالے سے نہرو کا یہ بیان پیش کیا کہ بھارت کے لیے خطرہ کمیونزم نہیں بلکہ ’ہندو دائیں بازو کی فرقہ واریت‘ ہے۔





