Bharat Express DD Free Dish

Indian Politics

ایل جے پی (رام ولاس) کے رکنِ پارلیمنٹ ارون بھارتی نے کہا کہ پارٹی کا سب سے بڑا ہدف چراغ پاسوان کو بہار کا اگلا وزیر اعلیٰ بنانا ہے۔

وزیراعظم کے دفتر کے مطابق ’وکست وائبرنٹ ولیج پروگرام‘ کو ’مائی بھارت‘ کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کا تصور وزیراعظم کے اس وژن کو عملی شکل دینے کے لیے پیش کیا گیا ہے جس کے تحت ہندوستان کے سرحدی گاؤں کو ملک کے ’پہلے گاؤں‘ کے طور پر دیکھا جائے اور انہیں ’وکست بھارت‘ کے سفر میں فعال شراکت دار بنایا جائے۔ 

طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی پر راہل گاندھی نے وزیرداخلہ سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ پرتشدد لاٹھی چارج  پیلیٹ گن اور آنسو گیس کے استعمال کی اجازت آپ نے دی تھی یا نہیں۔ پولیس کی کارروائی میں 19 سالہ طالب علم کی آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے، جبکہ پرلہاد جوشی کو وزارتِ تعلیم کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے۔

مرکزی وزیرِ تعلیم کے عہدے سے دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد دہلی سے لے کر مہاراشٹر تک سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔

ادھو ٹھاکرے نے کہا اس ہجوم کی ایک خاص بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ کہتے ہیں انہیں یہاں کوئی جان پہچان والا نظر نہیں آرہا اور یہی بات اہم ہے کہ ہم سب ہندوستانی ہیں، ہم سب ہندوستان کے باشندے ہیں۔ جو لوگ اب تک خوف پیدا کرکے اور ہمیں اپنی شناخت بھلا کر حکومت کرتے رہے ان کے لیے یہ منظر دیکھنے کے قابل ہے۔

مرکزی حکومت نے جمعرات کو وزارت تعلیم میں بھی بڑی انتظامی تبدیلی کی ہے۔ حکومت نے 1994 بیچ کے راجستھان کیڈر کے آئی اے ایس افسر نریش پال گنگوار کو اعلیٰ تعلیم کے محکمے کا نیا سکریٹری مقرر کیا ہے۔ انہوں نے ونیت جوشی کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے۔

مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ اپوزیشن بحث کے لیے وقت طے کرے، حکومت اس معاملے پر بحث کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہالزام تراشی نہیں، بلکہ حل پر بحث ہونی چاہیے۔ بحث کے بعد ہمیں ایک ٹھوس پالیسی لے کر آنی چاہیے۔ بچے ملک کا مستقبل ہیں۔ ملک کے مستقبل کی فکر کرنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے۔

اجلاس میں مختلف شعبوں میں مؤثر عمل درآمد، بہتر ہم آہنگی اور ’وکست بھارت‘ کے اہداف کی جانب تیز رفتار پیش رفت پر جامع اور نتیجہ خیز تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں کابینہ سکریٹری، اہم وزارتوں کے سکریٹریز اور وزیر اعظم کے دفتر کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا احتجاج بدھ کے روز بھی جاری رہا۔ اس دوران سی جے پی کے مرکزی ترجمان سوربھ داس نے کہا کہ ہمارا وقت قیمتی ہے اور ہم مرکزی وزیر جے پی نڈا سے اسی وقت ملاقات کریں گے، جب وہ ہماری مطالبات کو تسلیم کرنے اور انہیں پورا کرنے پر آمادہ ہوں۔