Bharat Express DD Free Dish

Indian Politics

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے راجیہ سبھا انتخابات 2026 کے لیے اپنے امیدواروں کی فہرست جاری کر دی ہے۔ مدھیہ پردیش سے ترون چُگ اور راجنیش اگروال کو پارٹی نے امیدوار نامزد کیا ہے۔

لوک سبھا انتخابات 2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے واضح اکثریت حاصل کی تھی۔ طویل عرصے بعد کسی ایک جماعت کو مکمل اکثریت ملنے سے ملک میں سیاسی استحکام کی نئی امید پیدا ہوئی۔ انتخابی مہم کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی نے ترقی، بہتر حکمرانی اور مضبوط قیادت کو اپنا بنیادی نعرہ بنایا تھا، جس پر عوام نے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔

سپریم کورٹ میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (CJP)، جعلی وکیلوں کے ریکیٹ اور عدالتی ریمارکس کے غلط استعمال سے متعلق دائر عرضی پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مناسب وقت پر اس معاملے پر غور کیا جائے گا۔

وزیراعظم نریندر مودی کی اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی سے ملاقات اور حالیہ غیر ملکی دورے پر کانگریس رہنماؤں نے سخت ردِعمل دیا ہے۔ دیپک بایج نے اسے ‘ہنی مون’ قرار دیا، جبکہ راہل گاندھی نے ریل کلچر پر تنقید کی اور بھوپیش بگھیل نے خارجہ پالیسی اور سفارت کاری پر سوالات اٹھائے۔

اصل مسئلہ صرف بی جے پی کا اقتدارمیں آنا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلم سماج کو خود انحصاری پرمبنی سیاسی شعور نہیں دیا گیا۔ انہیں کوئی مضبوط بیک اَپ پلان نہیں دیا گیا، کوئی طویل مدتی حکمتِ عملی نہیں سکھائی گئی، کوئی متبادل قیادت تیار نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی ایسا مضبوط اجتماعی ڈھانچہ بنایا گیا، لہذا جو بدلتے سیاسی حالات میں قوم کا سہارا بن برسوں تک”سیکولر سیاست“ کے نام پر مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک بنا کر استعمال کیا جاتا رہا۔

راجیہ سبھا رکن اور سابق نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر دنیش شرما نے لکھیم پور ضلع میں منعقدہ پنڈت دین دیال اپادھیائے کارکن تربیتی مہم پروگرام کے تحت تربیتی اجلاس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کارکنان سے خطاب میں کئی اہم باتوں کا تذکرہ کیا۔

بی جے پی آسام اور بنگال میں اپنی پکڑ مضبوط کر چکی ہے، لیکن اصل امتحان جنوبی بھارت میں ہے۔ تمل ناڈو میں بدعنوانی اور خاندانی سیاست کے خلاف محاذ کھولنا ہو یا کیرالہ میں ہندو شناخت کا مسئلہ اٹھانا، کیا بی جے پی روایتی علاقائی سیاست کو شکست دے پائے گی؟ دیکھیے ایک خصوصی رپورٹ۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ ممتا بنرجی ہمیشہ خود کو مظلوم ظاہر کر کے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’کبھی ٹانگ ٹوٹ جاتی ہے، کبھی سر پر پٹی بندھ جاتی ہے، کبھی بیمار ہو جاتی ہیں اور پھر الیکشن کمیشن کے سامنے بے بسی ظاہر کرتی ہیں۔‘‘

افسران کے مطابق جن ریاستوں میں اس وقت انتخابات ہو رہے ہیں، ان کے نمائندوں کو مرکزی اجلاس میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس کے بجائے ان ریاستوں کے چیف سیکریٹریز کے ساتھ الگ سے میٹنگ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بھارت میں حال ہی میں یوکرین کے چھ اور ایک امریکی شہری کو حراست میں لیا گیا، جس پر روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ردعمل سامنے آیا۔ اب روس کے اس بیان پر بھارت میں یوکرینی سفارت خانے نے بھی اپنا ردعمل جاری کیا ہے۔