Bharat Express DD Free Dish

Indian Politics

بی جے پی کی حکمت عملی حکومت کی کارکردگی اور مضبوط تنظیمی ڈھانچے کے سہارے آئندہ اسمبلی انتخابات میں برتری برقرار رکھنے پر مرکوز ہے۔ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل مختلف اضلاع کا دورہ کر رہے ہیں۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ بانکی پور ضمنی انتخاب سے قبل جن سوراج کے کئی اہم رہنماؤں کی بی جے پی میں شمولیت انتخاب کو متاثر کرسکتی ہے۔ واضح رہے کہ بانکی پور اسمبلی حلقے سے چار مرتبہ کے رکن اسمبلی نتن نوین کے استعفیٰ کے بعد یہ ضمنی انتخاب ہو رہا ہے۔

مدن مترا نے اے آئی ٹی سی سے استعفیٰ دے کر رتبرتا بنرجی کی قیادت والے باغی دھڑے کا دامن تھام لیا ہے جو ممتابنرجی گروپ کے لیے ایک بڑا جھٹکا مانا جارہا ہے۔ مدن مترا نے ابھیشیک بنرجی پر پارٹی کو نقصان پہنچانے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔

کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ منوج کمار نے راہل گاندھی کی گمشدگی کے پوسٹر لگائے جانے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ پی وی نرسمہا راؤ نے بھارت کی تاریخ کے ایک نہایت اہم دور میں ملک کی ترقی میں دیرپا کردار ادا کیا۔ انہوں نے لکھا کہ پی وی نرسمہا راؤ ایک قابل منتظم اور ممتاز دانشور تھے، جنہیں بھارت کی متنوع تہذیب اور ثقافت کا گہرا علم اور فہم حاصل تھا۔

حسین دلوئی نے مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ موہن یادو اور ان کے خاندان پر زمین کی خریداری سے متعلق الزامات کے معاملے میں غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو اس پر کارروائی ہونی چاہیے۔

عام آدمی پارٹی کے سربراہ کیجریوال نے جمعہ کو ایودھیا دورے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ایس آئی ٹی کے پاس مؤثر تحقیقات کرنے کے اختیارات ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ رام مندر میں چندے اور قیمتی نذرانوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ جن ووٹروں یا ان کے والدین اور دادا دادی کے نام 2002 کی ووٹر فہرست میں موجود نہیں ہیں، ان سے 12 مخصوص دستاویزات میں سے کسی ایک کی فراہمی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ان میں سے چار دستاویزات تلنگانہ میں عملاً دستیاب ہی نہیں ہیں۔

پیر کے روز مغربی بنگال میں اپوزیشن لیڈر رتبرتا بنرجی کی قیادت میں ایک باغی گروپ نے آل انڈیا ترنمول کانگریس کے لیے نئی قیادت کے ڈھانچے کا اعلان کیا تھا۔ باغیوں نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی پارٹی میں سرپرست (مینٹور) کا کردار ادا کریں۔

حالیہ سیاسی پیش رفت کو شیو سینا (ادھو) کے لیے ایک اور بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ پارٹی پہلے ہی اندرونی اختلافات اور ممکنہ بغاوت کی قیاس آرائیوں کا سامنا کر رہی تھی۔ حال ہی میں چھ ارکانِ پارلیمنٹ نے پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی، جس کے بعد جماعت میں ممکنہ تقسیم کی خبریں زور پکڑگئی تھیں۔