نئی دہلی: راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ اور اتر پردیش کے سابق نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا ہے کہ آزاد بھارت میں غلامی کی علامتوں اور نشانات کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ذہنی غلامی سے مکمل طور پر آزاد کرنے کا وقت آ چکا ہے اور سڑکوں، عمارتوں اور یادگاروں سے حملہ آوروں کے نام ہٹا کر قومی ہیروز اور شہیدوں کے نام منسوب کیے جانے چاہییں۔
راجیہ سبھا میں خصوصی اہمیت کا معاملہ اٹھایا
راجیہ سبھا میں خصوصی اہمیت کا معاملہ اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ دنیا کے متعدد ممالک اپنی تاریخ سے غلامی اور بیرونی تسلط کی علامتوں کو ختم کر چکے ہیں، مگر آزادی کے 79 برس بعد بھی بھارت ذہنی غلامی کے اثرات سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے بہادر مجاہدینِ آزادی نے اس لیے قربانیاں نہیں دیں کہ آزاد بھارت میں حملہ آوروں کی یادگاریں اور ان کے نام برقرار رہیں۔
دیگر ممالک کی مثال پیش کی
ڈاکٹر شرما نے کہا کہ پولینڈ اور بالٹک ممالک نے سوویت دور کی تمام علامتیں عوامی مقامات سے ہٹا دی ہیں، جبکہ چین نے جاپانی حملہ آوروں کی تمام نشانیاں مٹا دیں اور اپنے نصاب میں بھی جاپان کو ایک حملہ آور کے طور پر شامل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے برعکس بھارت کی راجدھانی دہلی میں آج بھی متعدد سڑکیں بابر اور اکبر جیسے حملہ آور حکمرانوں کے نام سے منسوب ہیں۔ انہوں نے عدالتی نظام میں “مائی لارڈ” جیسے القابات کے استعمال کو بھی ذہنی غلامی کی علامت قرار دیا۔
قومی کمیشن کے قیام کا مطالبہ
راجیہ سبھا رکن نے مطالبہ کیا کہ قومی سطح پر ایک کمیشن تشکیل دیا جائے، جو نوآبادیاتی دور کی علامتوں اور غیر متعلقہ قوانین کا جامع جائزہ لے اور ان میں ضروری تبدیلیوں کی سفارش کرے۔ ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ تعلیمی نصاب اور عجائب گھروں میں حملہ آور حکمرانوں کو ’حکمران‘ نہیں بلکہ ’حملہ آور‘ کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ یادگاروں، شاہراہوں اور دیگر عوامی مقامات سے حملہ آوروں کے نام ہٹا کر ان کی جگہ ملک کے لیے قربانی دینے والے مجاہدینِ آزادی اور قومی ہیروز کے نام رکھے جائیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
