Bharat Express DD Free Dish

Indian Politics

پرینکا چترویدی نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’’بی جے پی اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ سپولوں کا جھنڈ جمع کرکے انہیں دودھ پلائے گی تو وہ صرف اپوزیشن کو ہی ڈسیں گے۔ آپ کی باری بھی آئے گی، کیونکہ سانپ کی فطرت ہی ڈسنا ہے۔ آج اگر ہماری باری ہے، کل آپ کی بھی ہوسکتی ہے۔‘‘

امبیڈکر نگر میں پریس کانفرنس کے دوران اوم پرکاش راج بھر فل ایکشن میں نظر آئے۔ اس دوران وہ اپنی زبان کی حدیں بھی پار کر گئے۔ انہوں نے اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر شوکت علی کو ان پڑھ بتانے کے ساتھ گالیاں دینا شروع کر دیں۔ اب ان کی یہ ویڈیو خوب وائرل ہو رہی ہے۔

شیوسینا (یو بی ٹی) کے لیڈر سنجے راوت نے بی جے پی کے مبینہ ‘آپریشن ٹائیگر’ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے خوفناک دھمکی دی ہے۔ راوت نے کہا کہ اقتدار میں آتے ہی وہ بی جے پی لیڈرؤں کا گھر سے نکلنا مشکل بنا دیں گے۔ وہیں ادھو ٹھاکرے نے ماتوشری میں تمام ارکانِ پارلیمنٹ کی ایک اہم میٹنگ طلب کی ہے۔

نامزدگی مسترد ہونے کے بعد کانگریس کے اعلیٰ رہنماؤں نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کر کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں پارٹی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے افواہوں کی تردید کرتے ہوئے راجیہ سبھا انتخابات میں نامزدگی مسترد ہونے پر الیکشن کمیشن اور حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وینوگوپال نے مرکزی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ایک بار پھر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر 13 جون تک استعفیٰ نہیں دیا گیا تو ملک بھر میں احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔

کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر کرن سنگھ نے وزیراعظم نریندر مودی کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کی مختلف کامیابیوں کی تعریف کی ہے۔ 10 جون 2026 کو نریندر مودی آزاد بھارت کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے منتخب وزیراعظم بن گئے۔

کیرتی آزاد نے پارٹی کے ناراض رہنماؤں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹی ایم سی کے 29 ارکان پارلیمان ’’ماں، ماٹی، مانش‘‘ کے نام پر منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’میں ان غداروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر انہیں کوئی شکایت تھی تو انتخابات سے پہلے کیوں نہیں بولے؟

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اجلاس اپوزیشن اتحاد کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک طرف بی جے پی کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت کا چیلنج موجود ہے، تو دوسری طرف اتحادی جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات بھی اتحاد کے لیے امتحان بن چکے ہیں۔

مودی حکومت کے 12 برسوں کے دوران خواتین کو سماجی اور معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے شروع کی گئی متعدد اسکیمیں گیم چینجر ثابت ہوئی ہیں۔