Bharat Express DD Free Dish

Indian Politics

2014 سے 2019 تک بطور وزیر خارجہ، سشما سوراج نے بھارتی خارجہ پالیسی کو عوامی رنگ دیا۔ سوشل میڈیا کو ایک مؤثر ذریعہ بنا کر، بیرونِ ملک پھنسے بھارتیوں کی مدد کی۔ طبی ویزا، ایمرجنسی امداد، اور قونصل خدمات کے کئی معاملات میں انہوں نے ذاتی دلچسپی دکھائی۔

ستر کی دہائی میں زمینداروں اور ساہوکاروں کے خلاف مہمات نے شیبو سورین کو قبائلی برادری کا ہیرو بنا دیا۔ انہوں نے قبائلی زمینوں کی واپسی اور استحصال کے خلاف آواز بلند کی۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ آج بھی ریاست کی سب سے مضبوط سیاسی جماعت ہے۔

بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کے ارکان پارلیمنٹ نے وزیراعظم کی قائدانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ میٹنگ میں آپریشن سندور اور آپریشن مہادیو کی مشترکہ کامیابی پر خوشی کا اظہار۔

فوج کو پوری آزادی دینی ہوتی ہے۔ سیاسی عزائم کی ضرورت ہوتی ہے۔ فوج کے استعمال کے لیے سیاسی عزائم ضروری ہیں۔ 1971 میں تب کی وزیراعظم نے امریکہ کی پروا نہیں کی۔ ایک لاکھ پاکستانی فوجیوں نے سرینڈر کیا۔

وزیرداخلہ نے دعویٰ کیا کہ فوج اور سی آر پی ایف نے دہشت گردوں کے آقا کو بھی مار گرایا۔ اس پر اکھلیش یادو نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے آقا پاکستان میں ہیں۔ جس پر امت شاہ نے طنزیہ انداز میں جواب دیا، کون... آپ کی پاکستان سے بات ہوتی ہے کیا؟

راہل گاندھی نے کہا کہ پیوش گوئل جتنی چاہیں اپنی چھاتی پیٹ سکتے ہیں، مگر میرے الفاظ یاد رکھیں، ٹرمپ کی ٹیرف ڈیڈلائن کے سامنے وزیراعظم مودی آسانی سے جھک جائیں گے۔

جے رام رمیش نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہر پارٹی سے صرف دو نمائندوں کو ملاقات کی اجازت دی، جس کی وجہ سے کئی اہم رہنما کمیشن سے اپنی بات نہیں کہہ سکے۔ جے رام رمیش کے مطابق وہ خود تقریباً دو گھنٹے انتظار گاہ میں بیٹھے رہے لیکن ملاقات نہ ہو سکی۔

آج راشٹرپتی بھون میں مرکزی وزیر داخلہ اور تعاون امت شاہ نے صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات سرحدی سکیورٹی اور مجوزہ مشق (مَوک ڈرل) سے قبل ہوئی، جس کے بعد مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں۔

آپریشن سندور اور سرحد پار دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی مستقل لڑائی سے متعلق جانکاری دینے کے لیے 7 کُل جماعتی نمائندہ وفد یو این ایس سی اراکین سمیت اہم شراکت دار ممالک کا دورہ کرے گا۔ ششی تھرور کے انتخاب پر اعتراض کرنے والوں پر آچاریہ پرمود کرشنم نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا کہ وزیراعظم مودی راشٹر بھکتوں کی عزت کرنا چانتے ہیں۔

USAID امریکی حکومت کی ایک خود مختار ایجنسی ہے، جو ترقی پذیر ممالک کو معاشی اور انسانی امداد فراہم کرتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ  اس پر سیاسی مداخلت اور امریکی خارجہ پالیسی پر عمل درآمد کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔