Bharat Express DD Free Dish

Dr. Dinesh Sharma Address to BJP Workers: بی جے پی ایک تنظیمی بنیادوں پر قائم جماعت، جہاں کارکن اور نظریہ سب سے اہم: ڈاکٹر دنیش شرما

راجیہ سبھا رکن اور سابق نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر دنیش شرما نے لکھیم پور ضلع میں منعقدہ پنڈت دین دیال اپادھیائے کارکن تربیتی مہم پروگرام کے تحت تربیتی اجلاس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کارکنان سے خطاب میں کئی اہم باتوں کا تذکرہ کیا۔

لکھیم پور کھیری/لکھنؤ: راجیہ سبھا رکن اور سابق نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر دنیش شرما نے لکھیم پور ضلع میں منعقدہ پنڈت دین دیال اپادھیائے کارکن تربیتی مہم پروگرام کے تحت تربیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ایک تنظیم پر مبنی جماعت ہے، جس میں کارکن اور اس کی نظریاتی وابستگی سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اسی لیے بی جے پی سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور کانگریس سے مختلف ہے۔ پارٹی جو بھی کام کرتی ہے، وہ اپنی پالیسی، اصول اور نظریے کی بنیاد پر ڈنکے کی چوٹ پر کرتی ہے۔ رام مندر کی تعمیر، تین طلاق قانون اور دفعہ 370 کا خاتمہ اس کی بڑی مثالیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارٹی ہمیشہ کہتی تھی ’’جہاں ہوئے بلیدان مکھرجی، وہ کشمیر ہمارا ہے‘‘ اور آج کشمیر کے لال چوک پر ترنگا شان سے لہرا رہا ہے اور وندے ماترم گایا جاتا ہے۔ اسی طرح شیاما پرساد مکھرجی کا بنگال بھی آج بی جے پی والا ہو چکا ہے۔

’بی جے پی میں کارکن کی تخلیق ہوتی ہے‘

ڈاکٹر شرما نے کہا کہ بی جے پی میں کارکن کی تخلیق ہوتی ہے، تبھی وہ چھوٹے عہدے سے بڑے مقام تک پہنچتا ہے۔ بی جے پی کا کارکن ایک بار پارٹی کا جھنڈا اٹھا لے تو زندگی بھر اسے نہیں چھوڑتا۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ ترجیحات بدل رہی ہیں، اس لیے تربیت بے حد ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ 21 اکتوبر 1951 کو جن سنگھ کے طور پر پارٹی کا قیام عمل میں آیا تھا۔ پارٹی کا ابتدائی سفر انتہائی دشوار تھا اور ابتدا میں پارٹی کے صرف تین اراکینِ پارلیمنٹ تھے۔ جن سنگھ نے اُس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے ’’نون معاہدہ‘‘ کی مخالفت کی تھی اور تبت کی آزادی کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جن سنگھ نے 1964 میں ہی بھارت کو جوہری طاقت بنانے کا عزم کر لیا تھا۔ جو ننھا پودا جن سنگھ کی صورت میں لگایا گیا تھا، وہ آج ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ پنڈت دین دیال اپادھیائے کی قیادت میں جب جن سنگھ اقتدار کے قریب پہنچی تو ان کی پراسرار موت ہو گئی۔

پارٹی میں وزیر اعظم مودی بطور سرپرست

راجیہ سبھا رکن نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک سرپرست کی طرح ملک کے تئیں اپنی ذمہ داری نبھائی ہے۔ عالمی توانائی بحران کے دور میں پیٹرولیم مصنوعات کے کم استعمال اور سونا کم خریدنے کی اپیل کے پیچھے بھی ایک بڑی سوچ یہ تھی کہ ملک کی ترقی کی رفتار متاثر نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ آج بھارت میں جہاں پیٹرولیم مصنوعات کا کوئی بحران نہیں ہے، وہیں آسٹریلیا، برطانیہ، پاکستان سمیت کئی ممالک میں ہاہاکار مچا ہوا ہے۔ مشکل وقت میں ملک کے مفاد میں بہتر فیصلے لینے کی صلاحیت وزیر اعظم مودی سے بہتر کسی میں نہیں۔ کووڈ اس کی زندہ مثال ہے، جب بھارت نے تین ویکسین تیار کر کے اپنے ساتھ دنیا کے سو سے زائد ممالک کے لوگوں کو تحفظ فراہم کیا تھا۔ڈاکٹر شرما نے کہا کہ بھارت آج ایک عالمی لیڈر کے طور پر ابھرا ہے اور دنیا کو چیلنج دے رہا ہے۔ آج کا بھارت ایک مضبوط اور بااختیار ملک ہے۔

بی جے پی شخصیت پر مبنی نہیں بلکہ نظریے پر مبنی جماعت

انہوں نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے آئین کی خلاف ورزی کی انتہا کرتے ہوئے 1975 میں ملک پر ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کئی سیاسی جماعتیں ہیں اور ان میں تقسیم بھی ہوئی ہے، لیکن بی جے پی میں آج تک کبھی تقسیم نہیں ہوئی، کیونکہ یہ شخصیت پر مبنی نہیں بلکہ نظریے پر مبنی جماعت ہے۔ڈاکٹر دنیش شرما نے ضلع لکھیم پور میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے منعقدہ ’’پنڈت دین دیال اپادھیائے تربیتی مہا ابھیان 2026‘‘ میں شرکت کرکے کارکنوں کو تنظیمی اور نظریاتی تربیت فراہم کی۔ اس کے ساتھ ہی بی جے پی کی ترقی، خدمت، بہتر حکمرانی اور شاندار تاریخ پر مبنی نمائش کا مشاہدہ کر کارکنوں کا حوصلہ بھی بڑھایا۔

اس موقع پر سابق مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی، علاقائی صدر کملیش مشرا، ضلعی صدر اروند گپتا، سابق ریاستی وزیر وریندر تیواری، اراکینِ اسمبلی امن گری، لوکیندر پرتاپ سنگھ، ششانک ورما، منجو تیاگی، سوربھ سنگھ سونو، یوگیش ورما، ونود شنکر اوستھی دھوراہرا، علاقائی وزیر راج کشور موریہ، سابق ضلعی صدر شرد باجپئی، نگر پنچایت صدر رنکو شکلا، بی جے پی لیڈر منیش ساہنی، پلیا کی چیئرپرسن گپتا، سینئر بی جے پی لیڈر اوما شنکر مشرا، راجیش مشرا سمیت بڑی تعداد میں کارکنان اور لیڈران موجود تھے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read