Bharat Express DD Free Dish

Indian Politics

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ایک بار پھر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر 13 جون تک استعفیٰ نہیں دیا گیا تو ملک بھر میں احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔

کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر کرن سنگھ نے وزیراعظم نریندر مودی کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کی مختلف کامیابیوں کی تعریف کی ہے۔ 10 جون 2026 کو نریندر مودی آزاد بھارت کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے منتخب وزیراعظم بن گئے۔

کیرتی آزاد نے پارٹی کے ناراض رہنماؤں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹی ایم سی کے 29 ارکان پارلیمان ’’ماں، ماٹی، مانش‘‘ کے نام پر منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’میں ان غداروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر انہیں کوئی شکایت تھی تو انتخابات سے پہلے کیوں نہیں بولے؟

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اجلاس اپوزیشن اتحاد کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک طرف بی جے پی کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت کا چیلنج موجود ہے، تو دوسری طرف اتحادی جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات بھی اتحاد کے لیے امتحان بن چکے ہیں۔

مودی حکومت کے 12 برسوں کے دوران خواتین کو سماجی اور معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے شروع کی گئی متعدد اسکیمیں گیم چینجر ثابت ہوئی ہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے راجیہ سبھا انتخابات 2026 کے لیے اپنے امیدواروں کی فہرست جاری کر دی ہے۔ مدھیہ پردیش سے ترون چُگ اور راجنیش اگروال کو پارٹی نے امیدوار نامزد کیا ہے۔

لوک سبھا انتخابات 2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے واضح اکثریت حاصل کی تھی۔ طویل عرصے بعد کسی ایک جماعت کو مکمل اکثریت ملنے سے ملک میں سیاسی استحکام کی نئی امید پیدا ہوئی۔ انتخابی مہم کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی نے ترقی، بہتر حکمرانی اور مضبوط قیادت کو اپنا بنیادی نعرہ بنایا تھا، جس پر عوام نے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔

سپریم کورٹ میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (CJP)، جعلی وکیلوں کے ریکیٹ اور عدالتی ریمارکس کے غلط استعمال سے متعلق دائر عرضی پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مناسب وقت پر اس معاملے پر غور کیا جائے گا۔

وزیراعظم نریندر مودی کی اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی سے ملاقات اور حالیہ غیر ملکی دورے پر کانگریس رہنماؤں نے سخت ردِعمل دیا ہے۔ دیپک بایج نے اسے ‘ہنی مون’ قرار دیا، جبکہ راہل گاندھی نے ریل کلچر پر تنقید کی اور بھوپیش بگھیل نے خارجہ پالیسی اور سفارت کاری پر سوالات اٹھائے۔

اصل مسئلہ صرف بی جے پی کا اقتدارمیں آنا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلم سماج کو خود انحصاری پرمبنی سیاسی شعور نہیں دیا گیا۔ انہیں کوئی مضبوط بیک اَپ پلان نہیں دیا گیا، کوئی طویل مدتی حکمتِ عملی نہیں سکھائی گئی، کوئی متبادل قیادت تیار نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی ایسا مضبوط اجتماعی ڈھانچہ بنایا گیا، لہذا جو بدلتے سیاسی حالات میں قوم کا سہارا بن برسوں تک”سیکولر سیاست“ کے نام پر مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک بنا کر استعمال کیا جاتا رہا۔