Bharat Express DD Free Dish

Indian Politics

ہگلی میں پی ایم کسان کی 23ویں قسط جاری، متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں سے بنگال کی معیشت کو نئی رفتار ملے گی۔ 

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا (یو بی ٹی) میں مبینہ ’’آپریشن ٹائیگر‘‘ کے باعث بڑے پیمانے پر اراکینِ پارلیمنٹ کے ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا میں شامل ہونے کی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ 

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے کہا کہ اپنی تنظیمی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈالنے کے بجائے اپوزیشن کو خود احتسابی کرنی چاہیے۔ قرآن کی آیت کا حوالہ دے کر اویسی نے اپوزیشن جماعتوں کو نصیحت دی۔

یوپی کے وزیر اوم پرکاش راج بھر کا دعویٰ، رام گوپال یادو نے ایک فہرست تیار کرکے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو سونپ دی ہے۔ راج بھر کے اس دعوے پر اکھلیش یادو نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ ’’آخر یہ کہانی کب تک چلتی رہے گی؟‘‘

سنجے راؤت نے الزام لگایا کہ پارٹی میں پھوٹ ڈالنے کے لیے بعض اراکین پارلیمنٹ کو مالی لالچ دی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہر رکن پارلیمنٹ کو 15 کروڑ روپے پہنچائے گئے، جس کے بعد وہ ناندیڑ، پونے اور دیگر مقامات سے چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے روانہ ہوئے۔ 

پرینکا چترویدی نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’’بی جے پی اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ سپولوں کا جھنڈ جمع کرکے انہیں دودھ پلائے گی تو وہ صرف اپوزیشن کو ہی ڈسیں گے۔ آپ کی باری بھی آئے گی، کیونکہ سانپ کی فطرت ہی ڈسنا ہے۔ آج اگر ہماری باری ہے، کل آپ کی بھی ہوسکتی ہے۔‘‘

امبیڈکر نگر میں پریس کانفرنس کے دوران اوم پرکاش راج بھر فل ایکشن میں نظر آئے۔ اس دوران وہ اپنی زبان کی حدیں بھی پار کر گئے۔ انہوں نے اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر شوکت علی کو ان پڑھ بتانے کے ساتھ گالیاں دینا شروع کر دیں۔ اب ان کی یہ ویڈیو خوب وائرل ہو رہی ہے۔

شیوسینا (یو بی ٹی) کے لیڈر سنجے راوت نے بی جے پی کے مبینہ ‘آپریشن ٹائیگر’ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے خوفناک دھمکی دی ہے۔ راوت نے کہا کہ اقتدار میں آتے ہی وہ بی جے پی لیڈرؤں کا گھر سے نکلنا مشکل بنا دیں گے۔ وہیں ادھو ٹھاکرے نے ماتوشری میں تمام ارکانِ پارلیمنٹ کی ایک اہم میٹنگ طلب کی ہے۔

نامزدگی مسترد ہونے کے بعد کانگریس کے اعلیٰ رہنماؤں نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کر کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں پارٹی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے افواہوں کی تردید کرتے ہوئے راجیہ سبھا انتخابات میں نامزدگی مسترد ہونے پر الیکشن کمیشن اور حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وینوگوپال نے مرکزی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے۔