Bharat Express DD Free Dish

Indian Politics

ملند دیوڑا نے دعویٰ کیا کہ اقتصادی اور سیاسی میدان میں کانگریس نے اس راستے سے ہٹ کر چلنا شروع کر دیا ہے جو یو پی اے دور میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں اختیار کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا: ’’منموہن اکنامکس سے بھی اور پرانی کانگریس سے بھی نمایاں انحراف ہوا ہے۔‘‘

چیف الیکشن کمشنر کمار نے اتوار کو کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کے حالیہ ’’ووٹ چوری‘‘ کے الزامات کو خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ آئین ہند کی توہین ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے راہل گاندھی سے مطالبہ کیا کہ وہ یا تو حلف نامہ داخل کریں یا قوم سے معافی مانگیں۔

گزشتہ روز بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے رادھاکرشنن کو نائب صدر کے انتخاب کے لیے این ڈی اے کا امیدوار قرار دیا تھا۔ یہ فیصلہ پارٹی کی پارلیمانی بورڈ میٹنگ میں وزیراعظم نریندر مودی کی موجودگی میں اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد متفقہ طور پر لیا گیا۔ انتخاب 9 ستمبر کو ہوگا۔

2014 سے 2019 تک بطور وزیر خارجہ، سشما سوراج نے بھارتی خارجہ پالیسی کو عوامی رنگ دیا۔ سوشل میڈیا کو ایک مؤثر ذریعہ بنا کر، بیرونِ ملک پھنسے بھارتیوں کی مدد کی۔ طبی ویزا، ایمرجنسی امداد، اور قونصل خدمات کے کئی معاملات میں انہوں نے ذاتی دلچسپی دکھائی۔

ستر کی دہائی میں زمینداروں اور ساہوکاروں کے خلاف مہمات نے شیبو سورین کو قبائلی برادری کا ہیرو بنا دیا۔ انہوں نے قبائلی زمینوں کی واپسی اور استحصال کے خلاف آواز بلند کی۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ آج بھی ریاست کی سب سے مضبوط سیاسی جماعت ہے۔

بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کے ارکان پارلیمنٹ نے وزیراعظم کی قائدانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ میٹنگ میں آپریشن سندور اور آپریشن مہادیو کی مشترکہ کامیابی پر خوشی کا اظہار۔

فوج کو پوری آزادی دینی ہوتی ہے۔ سیاسی عزائم کی ضرورت ہوتی ہے۔ فوج کے استعمال کے لیے سیاسی عزائم ضروری ہیں۔ 1971 میں تب کی وزیراعظم نے امریکہ کی پروا نہیں کی۔ ایک لاکھ پاکستانی فوجیوں نے سرینڈر کیا۔

وزیرداخلہ نے دعویٰ کیا کہ فوج اور سی آر پی ایف نے دہشت گردوں کے آقا کو بھی مار گرایا۔ اس پر اکھلیش یادو نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے آقا پاکستان میں ہیں۔ جس پر امت شاہ نے طنزیہ انداز میں جواب دیا، کون... آپ کی پاکستان سے بات ہوتی ہے کیا؟

راہل گاندھی نے کہا کہ پیوش گوئل جتنی چاہیں اپنی چھاتی پیٹ سکتے ہیں، مگر میرے الفاظ یاد رکھیں، ٹرمپ کی ٹیرف ڈیڈلائن کے سامنے وزیراعظم مودی آسانی سے جھک جائیں گے۔

جے رام رمیش نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہر پارٹی سے صرف دو نمائندوں کو ملاقات کی اجازت دی، جس کی وجہ سے کئی اہم رہنما کمیشن سے اپنی بات نہیں کہہ سکے۔ جے رام رمیش کے مطابق وہ خود تقریباً دو گھنٹے انتظار گاہ میں بیٹھے رہے لیکن ملاقات نہ ہو سکی۔