Bharat Express DD Free Dish

Indian Politics

بی جے پی کے سینئر لیڈر شاہنواز حسین نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور نتیش کمار کی جوڑی کے سامنے کوئی اپوزیشن ٹک نہیں سکے گی۔ انہوں نے بہار میں این ڈی اے کی حکومت کو ایک مرتبہ پھر قائم ہونے کی امید ظاہر کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے طلبہ کو فیس کی پریشانی نہ ہو، اس بات کا خیال رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بہار حکومت ’اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ‘ کے ذریعے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے مالی مدد فراہم کرتی ہے اور اب اس کریڈٹ کارڈ کے تحت ملنے والے تعلیمی قرضے کو سود سے پاک کر دیا گیا ہے۔

سِرجن (تخلیق) ہی دین دیال جی کی زندگی کا محور تھا اور ان کے لیے ملک سب سے اوپر تھا، دین دیال اُپادھیائے کے اصولوں کو عملی شکل دے رہی ہے مودی حکومت – کلراج مشرا

کانگریس نے بہار اور کرناٹک میں مبینہ انتخابی بدعنوانیوں کی تحقیقات کو اجاگر کرنے کے لیے مہم کو مزید تقویت دی۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی الیکشن کمیشن کو بنایا نشانہ

جی ایس ٹی اصلاحات کے حوالے سے جیتن رام مانجھی نے مرکزی حکومت کی تعریف کی اور کہا کہ اتنا بڑا تحفہ پہلے کسی حکومت سے توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ انہوں نے کہا ’’میں 46 سال سے سیاست میں ہوں، اتنا بڑا تحفہ بھارت کے عوام کو کسی حکومت نے نہیں دیا۔ نریندر مودی حکومت صرف غریبوں کے لیے کام کرتی ہے۔‘‘

پارلیمنٹ میں بی جے پی ورکشاپ کا آغاز، نئے ممبران پارلیمنٹ کو نائب صدر کے انتخاب سے قبل ووٹنگ کی تربیت دینے کے لیے بی جے پی کی ورکشاپ میں چار اہم سیشن شامل

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ تلنگانہ ریونت ریڈی کی درخواست پر اپوزیشن امیدوار کی تائید کا فیصلہ کیا گیا

ملند دیوڑا نے دعویٰ کیا کہ اقتصادی اور سیاسی میدان میں کانگریس نے اس راستے سے ہٹ کر چلنا شروع کر دیا ہے جو یو پی اے دور میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں اختیار کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا: ’’منموہن اکنامکس سے بھی اور پرانی کانگریس سے بھی نمایاں انحراف ہوا ہے۔‘‘

چیف الیکشن کمشنر کمار نے اتوار کو کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کے حالیہ ’’ووٹ چوری‘‘ کے الزامات کو خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ آئین ہند کی توہین ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے راہل گاندھی سے مطالبہ کیا کہ وہ یا تو حلف نامہ داخل کریں یا قوم سے معافی مانگیں۔

گزشتہ روز بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے رادھاکرشنن کو نائب صدر کے انتخاب کے لیے این ڈی اے کا امیدوار قرار دیا تھا۔ یہ فیصلہ پارٹی کی پارلیمانی بورڈ میٹنگ میں وزیراعظم نریندر مودی کی موجودگی میں اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد متفقہ طور پر لیا گیا۔ انتخاب 9 ستمبر کو ہوگا۔