Bharat Express DD Free Dish

Modi-Meloni Meet controversy: پی ایم مودی-میلونی ملاقات پر کانگریس کا حملہ، ‘ہنی مون’ والے بیان پر مچ گیا ہنگامہ

وزیراعظم نریندر مودی کی اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی سے ملاقات اور حالیہ غیر ملکی دورے پر کانگریس رہنماؤں نے سخت ردِعمل دیا ہے۔ دیپک بایج نے اسے ‘ہنی مون’ قرار دیا، جبکہ راہل گاندھی نے ریل کلچر پر تنقید کی اور بھوپیش بگھیل نے خارجہ پالیسی اور سفارت کاری پر سوالات اٹھائے۔

جمعہ (22 مئی) کو چھتیس گڑھ میں سیاسی بیان بازی میں تیزی آ گئی، جب ریاستی کانگریس صدر دیپک بایج (Deepak Baij) نے وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ غیر ملکی دورے پر سخت تبصرہ کیا۔ انہوں نے اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی (Giorgia Meloni) اور وزیر اعظم مودی کی ملاقات کے سلسلے میں متنازع لفظ استعمال کرتے ہوئے اسے ’ہنی مون‘ جیسا قرار دیا۔ اس بیان کے بعد سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا۔

اسی معاملے پر کانگریس کے دیگر اہم لیڈروں نے بھی غیر ملکی دوروں اور ملاقاتوں پر سخت اور تنقیدی ردِعمل دیا۔ ان میں راہل گاندھی اور بھوپیش بگھیل جیسے سینئر لیڈروں کے بیانات بھی خاصے زیرِ بحث رہے۔ مجموعی طور پر، وزیر اعظم کے غیر ملکی دوروں اور بین الاقوامی ملاقاتوں پر اپوزیشن کی جانب سے مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جس سے سیاسی تنازع اور بحث میں مزید شدت آ گئی ہے۔

وزیراعظم’ہنی مون‘ منا رہے ہیں — دیپک بایج

وزیر اعظم مودی اور اٹلی کی وزیراعظم میلونی کے حوالے سے کانگریس کے ریاستی صدر دیپک بایج کا متنازع بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے مودی اور میلونی “ہنی مون” منا رہے ہوں۔ کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر دونوں لیڈروں کی تصاویر ویڈنگ شوٹ کی طرح چھائی ہوئی ہیں۔

پی ایم ریل بنانے میں مصروف ہیں — راہل گاندھی

اس سے قبل حزب اختلاف  کے لیڈرراہل گاندھی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’X‘ پر ایک سخت پوسٹ کرتے ہوئے وزیر اعظم کے وائرل ویڈیو پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ملک مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی دباؤ کا شکار ہے تو وزیراعظم بیرون ملک جا کر ریل بنانے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے لکھا:

’’معاشی طوفان سر پر ہے، اور ہمارے وزیر اعظم اٹلی میں ٹافیاں بانٹ رہے ہیں! کسان، نوجوان، خواتین، مزدور اور چھوٹے تاجر سب پریشان ہیں۔ وزیراعظم مسکرا کر ریل بنا رہے ہیں اور بی جے پی والے تالیاں بجا رہے ہیں۔ یہ قیادت نہیں، ڈرامہ ہے۔‘‘

بھوپیش بگھیل نے تشویش ظاہر کی

کانگریس لیڈر اور چھتیس گڑھ کے سابق وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے بھی وزیراعظم کے غیر ملکی دوروں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کسی بھی وزیراعظم کا بیرون ملک جانا معمول کی بات ہے، لیکن عوام کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ان دوروں سے ملک کو کیا فائدہ ہوا۔ انہوں نے حالیہ اسرائیل دورے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کے فوراً بعد اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی پہلے زیادہ متوازن سمجھی جاتی تھی، لیکن اب کچھ پرانے دوست ممالک سے دوری بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے روس کے ساتھ تعلقات پر بھی تشویش ظاہر کی۔

اسی سلسلے میں بھوپیش بگھیل نے ’X‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا: “اے پرابھو! اے ہرِ رام… کرشن جگن ناتھم… پریم آنند یہ کیا ہو گیا؟؟؟‘‘

یاد رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی 15 مئی کی صبح نئی دہلی سے ایک اہم غیر ملکی دورے پر روانہ ہوئے تھے۔ اس دورے میں انہوں نے متحدہ عرب امارات (UAE)، نیدرلینڈز، سویڈن، ناروے اور اٹلی کا سفر کیا۔ تقریباً 140 گھنٹوں کے اس دورے میں وزیراعظم نے 6 دن کے اندر 5 ممالک کے ساتھ کئی اہم اور تاریخی معاہدے کیے۔ 21 مئی کی صبح وہ واپس نئی دہلی پہنچے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read