Bharat Express DD Free Dish

Modi-Shah Game Plan: آسام اور بنگال تو ٹھیک، کیا جنوب میں بھی چلے گا بی جے پی کا جادو؟ جانیے کیا ہے مودی-شاہ کا نیا ’گیم پلان‘

بی جے پی آسام اور بنگال میں اپنی پکڑ مضبوط کر چکی ہے، لیکن اصل امتحان جنوبی بھارت میں ہے۔ تمل ناڈو میں بدعنوانی اور خاندانی سیاست کے خلاف محاذ کھولنا ہو یا کیرالہ میں ہندو شناخت کا مسئلہ اٹھانا، کیا بی جے پی روایتی علاقائی سیاست کو شکست دے پائے گی؟ دیکھیے ایک خصوصی رپورٹ۔

مغربی بنگال میں دراندازی، آسام میں سی اے اے، کیرالہ میں ہندو شناخت اور تمل ناڈو میں دراوڑ سیاست کو چیلنج کرتے ہوئے بی جے پی ان ریاستوں میں اپنی پکڑ مضبوط کرنے اور جیت حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ آسام اور بنگال میں یہ حکمت عملی کارگر ثابت ہو سکتی ہے، لیکن کیا کیرالہ اور تمل ناڈو میں روایتی علاقائی جماعتوں کو شکست دینا بی جے پی کے لیے بڑا چیلنج ہوگا؟ پیش ہے ایک خصوصی رپورٹ۔

شناخت اور ترقی پر داؤ

بہار میں کامیابی کے بعد اب آسام، کیرالہ، تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں بی جے پی اپنے آزمودہ انتخابی ماڈل اور حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترتی نظر آ رہی ہے۔ آسام میں بی جے پی کی حکومت ہے اور ہمنتا بسوا سرما وزیر اعلیٰ ہیں۔ ابتدائی مخالفت کے بعد بی جے پی نے آسامیہ شناخت اور ترقی کے بیانیے کے ذریعے توازن قائم کیا، جس کا فائدہ 2021 اسمبلی اور 2024 لوک سبھا انتخابات میں ملا۔ ایسے میں ایک بار پھر این آر سی کو مقامی شناخت کے تحفظ کے وعدے کے ساتھ انتخابی میدان میں لانا بی جے پی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

دراوڑ ماڈل بمقابلہ ہندو شناخت

بنگال میں دراندازی کا مسئلہ اثر رکھتا ہے۔ بی جے پی نے دراندازی کے موضوع کو اٹھا کر ممتا حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی اور ٹی ایم سی کے خلاف چارج شیٹ میں اسے شامل کر کے اپنی انتخابی حکمت عملی واضح کر دی۔ دوسری جانب تمل ناڈو جنوبی بھارت میں بی جے پی کے پھیلاؤ میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ تقریباً ایک دہائی سے بی جے پی کی کوششیں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔ ایسے میں بی جے پی تمل ناڈو میں ’دراوڑ ماڈل‘ کو بدعنوانی، خاندانی سیاست اور ہندو مخالف قرار دے کر چیلنج کر رہی ہے۔ پارٹی کا بنیادی مقصد خود کو دراوڑ سیاست کے متبادل کے طور پر پیش کرنا ہے۔

کیرالہ میں ہندو شناخت کا کارڈ

کیرالہ میں بی جے پی ہندو شناخت کے اہم مسائل جیسے مندر کی روایات، ثقافتی مداخلت، مذہبی تبدیلی اور آبادیاتی تبدیلی جیسے موضوعات کو اٹھا رہی ہے۔ ریاست میں ہندو آبادی 48 فیصد سے زیادہ ہے اور گزشتہ 50 برسوں سے ہندو رکن اسمبلی نہ ہونے کا مسئلہ بھی اجاگر کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے روایتی مقابلے کو توڑ کر کیرالہ میں اپنی موجودگی مضبوط کرنا چاہتی ہے، تاہم اس سمت میں کامیابی ابھی دور دکھائی دیتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read