Bharat Express DD Free Dish

India US relations

امریکہ ایک مرتبہ پھر روس کے خلاف سخت معاشی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری میں ہے، جس کے اثرات بھارت سمیت کئی ممالک پر پڑ سکتے ہیں۔ امریکی پارلیمنٹ میں ایک نیا بل پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس کے تحت روس سے تیل اور دیگر توانائی وسائل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک بھاری ٹیرف لگایا جا سکتا ہے۔

مشہور تھنکٹینک فرانسس فوکویاما نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے نوبیل انعام حاصل کرنے کی خواہش میں بھارت اور امریکہ کے تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے۔

امریکہ نے بھارت کے شانتی بل 2025 کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان انرجی تحفظ کے شعبے میں تعاون مضبوط بنانے اور پُرامن سول نیوکلیئر شراکت داری کو آگے بڑھانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس قانون سے نہ صرف بھارت کے جوہری توانائی کے شعبے میں اصلاحات آئیں گی بلکہ بھارت۔امریکہ تعلقات کو بھی نئی مضبوطی ملے گی۔

ایک سینئر بھارت۔امریکہ پالیسی ماہر نے کہا ہے کہ دفاعی تعاون، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز آئندہ برسوں میں بھارت اور امریکہ کے تعلقات کے اگلے مرحلے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان بعض سیاسی اور تجارتی مسائل ابھی حل طلب ہیں، تاہم اس کے باوجود اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون کی رفتار برقرار رکھنے کی مشترکہ خواہش واضح طور پر نظر آتی ہے۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ دو طرفہ تجارتی معاہدے کو عملی شکل دینے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی تجارتی حکام ایک بار پھر بھارت کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں 10 سے 12 دسمبر تک تین روزہ مذاکرات ہوں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی بھارت آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے انہیں اپنا اچھا دوست اور ایک عظیم شخصیت قرار دیا۔

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے پر بات چیت آخری مراحل میں ہے۔ معاہدے کے بعد ہندوستانی برآمدات پر محصولات کو 50 فیصد سے کم کرکے 15-16 فیصد کیا جاسکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے بھارت پر اضافی 25 فیصد محصولات عائد کیے کیونکہ بھارت کی روسی تیل کی درآمدات، براہ راست یا بالواسطہ، امریکہ کے لیے غیرمعمولی اور خطرناک ہیں۔

بھارت کے امریکہ اور یورپی یونین دونوں کے ساتھ یہ تجارتی مذاکرات اس کی وسیع تر معاشی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد بدلتے ہوئے عالمی حالات میں مضبوط اقتصادی شراکت داری اور محفوظ سپلائی چینز کو فروغ دینا ہے۔

اپنے خطاب میں وزیر خارجہ نے عالمی منظرنامے پر بھی بات کی اور کہا کہ:"دنیا اس وقت تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے۔ بین الاقوامی قوانین اور نظام کمزور ہو رہے ہیں یا بعض صورتوں میں ختم بھی ہو رہے ہیں۔"