Bharat Express DD Free Dish

India US relations

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اور امریکہ کے درمیان ٹرمپ دور کی درآمدی محصولات پر اختلافات جاری ہیں۔ 27 اگست سے نافذ ہونے والی ان محصولات کے تحت بھارت سے درآمدی اشیاء پر 50 فیصد تک ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

امریکہ کا الزام ہے کہ بھارت روسی خام تیل خرید کر ماسکو کو اقتصادی مدد فراہم کر رہا ہے، اور اس طرح بالواسطہ طور پر یوکرین جنگ کو "ایندھن" فراہم کر رہا ہے۔ واشنگٹن نے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف لگا دیا ہے۔

کمار نے واشنگٹن کے اس فیصلے کو "غیر منصفانہ، غیر معقول اور ناجائز" قرار دیا اور کہا کہ ہندوستانی حکومت اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور روس کے درمیان تجارت باہمی مفادات اور منڈی کے عوامل پر مبنی ہے۔

تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر دونوں ممالک کے درمیان گہرے اختلافات کی عکاسی کرتی ہے، لیکن یہ مذاکرات کو مکمل طور پر ختم کرنے کا اشارہ نہیں۔ بھارت اور امریکہ کے درمیان آزادانہ تجارت معاہدہ (ایف ٹی اے) طویل عرصے سے زیر بحث ہے۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد بھارت کو روس سے تیل درآمد کرنے پر امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یہ توسیع بھارت اور امریکہ کے درمیان گہرے ہوتے تعلقات کی عکاسی کرتی ہے، جہاں بھارتی ڈائسپورا نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سے قبل رواں سال جنوری میں، امریکہ نے بنگلورو میں اپنا نیا قونصلیٹ کھولا، جو بھارت میں اس کا پانچواں قونصلیٹ ہے۔

آپ کو بتادیں کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ فون پر بات چیت کا ارادہ ظاہر کیا ہے تاکہ بھارت-امریکہ تجارت معاہدے کو حتمی منظوری دینے سے قبل اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان مجوزہ فون کال کے لیے دونوں حکومتیں رابطہ کاری کر رہی ہیں، کیونکہ  پی ایم مودی اس وقت بھارتی پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں مصروف ہیں۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو 2030 تک 190 بلین ڈالر سے بڑھا کر 500 بلین ڈالر تک لے جانے کے ہدف کا حصہ ہے۔

فوج کو پوری آزادی دینی ہوتی ہے۔ سیاسی عزائم کی ضرورت ہوتی ہے۔ فوج کے استعمال کے لیے سیاسی عزائم ضروری ہیں۔ 1971 میں تب کی وزیراعظم نے امریکہ کی پروا نہیں کی۔ ایک لاکھ پاکستانی فوجیوں نے سرینڈر کیا۔

ہندوستانی وزارت تجارت کی ایک ٹیم مجوزہ تجارتی معاہدے پر بات چیت کے لیے فی الحال واشنگٹن میں ہے۔ بھارت نے زرعی اور ڈیری مصنوعات پر استثنیٰ پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ اب تک ہندوستان نے اپنا ڈیری سیکٹر کسی بھی ملک کے لیے نہیں کھولا ہے۔