Bharat Express DD Free Dish

India US relations

بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کو لے کر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تناؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ ملکی معیشت، کسانوں اور خارجہ پالیسی سے جڑا ہوا حساس معاملہ ہے۔

امریکہ اور بھارت کے درمیان طے پانے والے تجارتی معاہدے پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر وزیرِاعظم نریندر مودی اور پورے ملک کو مبارکباد دی ہے۔

بھارت کے وزارت خارجہ نے اطلاع دی ہے کہ ایس۔ جے شنکر 2 فروری سے 4 فروری تک امریکہ کے دورے پر ہوں گے۔ بھارت کے وزیر خارجہ ایس۔ جے شنکر امریکہ کا اہم دورہ کریں گے۔

امریکہ نے بھارت پر دو مرحلوں میں ٹیرف عائد کیا تھا۔ پہلے 25فیصد ٹیرف لگایا گیا، اور پھر روس سے تیل خریدنے پر مزید 25فیصد کا ٹیرف عائد کر دیا گیا تھا۔

بھارت میں امریکہ کے نئے سفیر سرجیو گور نے اس ہفتے کے آغاز میں باضابطہ طور پر اپنی سفارتی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ ذمہ داریاں سنبھالتے ہی انہوں نے ممبئی کا دورہ کیا، جہاں ان کی ملاقات ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر سنجے ملہوترا سے ہوئی۔ اس ملاقات کو بھارت اور امریکہ کے درمیان اقتصادی اور مالی تعاون کے تناظر میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے پر بات چیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اس حوالے سے اگلی باضابطہ ملاقات منگل کو ہونے جا رہی ہے۔ یہ بات بھارت میں حال ہی میں تعینات ہونے والے امریکی سفیر سرجیو گور نے پیر کے روز نئی دہلی میں کہی۔

امریکی وزیر لوٹنک نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے تجارتی معاہدے میں رکاوٹ اس لیے پیدا ہوئی کیونکہ وزیر اعظم مودی کی وجہ سے ٹرمپ کا ایگو زخمی ہوا۔ ٹرمپ چاہتے تھے کہ وزیر اعظم مودی انہیں فون کر کے منائیں، تاہم ٹرمپ کے برے مزاج کی وجہ سے وزیر اعظم نے کال نہیں کی۔

بھارتی وزارتِ خارجہ نے امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ نہ ہونے کی ذمہ داری بھارت پر ڈالنا درست نہیں۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ سال 2025 کے دوران وزیر اعظم مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان آٹھ مرتبہ براہِ راست بات چیت ہوئی ہے اور دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارتی معاہدے پر سنجیدگی سے مذاکرات کیے ہیں۔

امریکہ اور بھارت کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ آخری مرحلے میں پہنچ کر کیوں رک گیا، اس پر اب ایک چونکا دینے والا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک نے کہا ہے کہ اس تعطل کی اصل وجہ کوئی پالیسی اختلاف نہیں بلکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انا ہے، جو اس وقت مجروح ہو گئی جب بھارتی وزیر اعظم مودی نے انہیں براہِ راست فون نہیں کیا۔

امریکہ ایک مرتبہ پھر روس کے خلاف سخت معاشی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری میں ہے، جس کے اثرات بھارت سمیت کئی ممالک پر پڑ سکتے ہیں۔ امریکی پارلیمنٹ میں ایک نیا بل پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس کے تحت روس سے تیل اور دیگر توانائی وسائل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک بھاری ٹیرف لگایا جا سکتا ہے۔