Bharat Express DD Free Dish

India US relations

امریکی خارجہ سکریٹری مارکو روبیو کے تاریخی بھارت دورے کے دوران بھارت منڈپم میں ’فریڈم 250‘ کا جشن، جہاں پالیسی سازوں سے لے کر سلیبریٹیز تک کی رونق ہوگی۔ بھارت ایکسپریس اردو کے ایڈیٹر ڈاکٹر خالد رضا خان بھی ہیں مدعو۔

ملاقات کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا خیر مقدم کر کے خوشی ہوئی۔ انہوں نے لکھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان بھارت-امریکہ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری میں مسلسل ترقی، علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے معاملات پر مثبت تبادلۂ خیال ہوا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ بھارت امریکہ کے لیے بے حد اہم ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تعلقات نہایت خاص نوعیت کے ہیں اور یہ رشتہ طویل مدتی بنیادوں پر قائم ہے۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور امریکہ عالمی بھلائی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری پر بھی زور دیا گیا ہے۔

نئی دہلی میں امریکہ اور بھارت کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے ایک اہم سفارتی ملاقات اس وقت دیکھنے میں آئی جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیر اعظم مودی کو مستقبل میں وائٹ ہاؤس کے دورے کی باضابطہ دعوت بھی دی گئی۔

کانگریس لیڈر نے خواتین کے تحفظ کے معاملے پر بھی بی جے پی اور ترنمول کانگریس دونوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے علاقوں میں ملزمان کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے آر جی کر میڈیکل کالج کے مبینہ ریپ اور قتل کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات میں جوابدہی کا فقدان ہے اور حکومتیں مجرموں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کرتیں۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے اور وسیع بی ٹی اے (BTA) کے تحت مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے واشنگٹن میں امریکی ہم منصب کے ساتھ اہم ملاقات ہوئی، جسے وزارتِ تجارت و صنعت نے معاہدے کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔

سابق امریکی سفیر کے مطابق نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی موجودگی مضبوط کر رہا ہے اور آنے والے برسوں میں اس کا کردار مزید اہم ہونے کی توقع ہے۔

مصنوعی ذہانت کے عہد میں جہاں ڈیجیٹل معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، وہیں سیمی کنڈکٹرز اور متعلقہ ٹیکنالوجیز کی رسد کا نظام عالمی سیاست اور معیشت دونوں کے لیے کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اسی تناظر میں ”پیکس سیلیکا“ نامی ایک ابھرتا ہوا بین الاقوامی فریم ورک سامنے آیا ہے، جو امریکہ کی قیادت میں قابلِ اعتماد ٹیکنالوجی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور جس میں ہندوستان ایک اہم شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح پر تعاون کو مضبوط بنانے کے مقصد سے بھارت اور امریکہ نے مشترکہ طور پر ’’یو ایس۔انڈیا اے آئی مواقع شراکت داری‘‘ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ یہ اہم معاہدہ ’’پیکس سیلیکا اعلامیہ‘‘ کے تحت دوطرفہ ضمیمے کے طور پر طے پایا، جس کا مقصد ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں اسٹریٹجک تعاون کو فروغ دینا ہے۔