Bharat Express DD Free Dish

India US relations

راہل گاندھی نے کہا کہ پیوش گوئل جتنی چاہیں اپنی چھاتی پیٹ سکتے ہیں، مگر میرے الفاظ یاد رکھیں، ٹرمپ کی ٹیرف ڈیڈلائن کے سامنے وزیراعظم مودی آسانی سے جھک جائیں گے۔

عالمی دہشت گردی کے معاملے پر وزیر نے کچھ ممالک کی جانب سے اپنائے جانے والے دوہرے معیار پر سخت تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب دہشت گردی دوسروں پر حملہ کرتی ہے تو ممالک اکثر خاموش رہتے ہیں، لیکن جب وہ خود نشانہ بنتے ہیں تو ان کا ردعمل شدید ہوتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ایک بڑی اور اچھی شراکت داری ہونے والی ہے۔ اس پر بھارتی حکومت نے بھی اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا ہے کہ ہندوستان امریکہ کے ساتھ شراکت داری ضرور کرے گا، لیکن اس کے لیے کچھ شرائط ہوں گی۔

مرکزی  وزیر تجارت پیوش گوئل نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور صدرٹرمپ نے فروری 2025 میں ملاقات کے دوران ’منصفانہ اور متوازن‘ معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔ امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے بھی امید ظاہر کی کہ معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔

وزیراعظم مودی اور ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان فون پر بات چیت، صدر ٹرمپ نے وزیراعظم مودی سے پوچھا کہ کیا وہ کینیڈا سے واپسی کے دوران امریکہ آ سکتے ہیں؟ اس پر وزیراعظم مودی نے کہا کہ وہ پہلے سے طے شدہ مصروفیات کے باعث فی الحال امریکہ کا دورہ نہیں کر پائیں گے۔

ہاورڈ لٹنک نے کہاکہ جو ممالک تیزی سے قدم اٹھاتے ہیں وہ بہتر سودے حاصل کرتے ہیں۔ میرے خیال میں بھارت بھی ایسا ہی کر رہا ہے اور میں اس کی تعریف کرتا ہوں۔ پہلے ایسے معاہدے ہونے میں دو سے تین سال لگتے تھے، لیکن اب ہم انہیں ایک ماہ میں مکمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بھارت نہ صرف جوابی ٹیرف لگا رہا ہے بلکہ اپنی گھریلو صنعت کو بھی تحفظ فراہم کر رہا ہے۔ گزشتہ ماہ، بھارت نے چین سے اسٹیل کی درآمد کو روکنے کے لیے 12 فیصد کا عارضی ٹیرف بھی لگایا تھا۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت سمیت 60 ممالک پر محصولات عائد کر رکھے ہیں،

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی پوری طرح سے متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیزیں بالکل سوچ کے مطابق ہو رہی ہیں اور اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے۔

اہم معدنیات، جدید مواد اور دواسازی کی ایک مضبوط سپلائی چین بنائی جائے گی۔ مشترکہ مینوفیکچرنگ، مشترکہ ترقی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر زیادہ زور دیا جائے گا۔