Bharat Express DD Free Dish

India-US trade deal stalled Modi-Trump phone call lutnick: ٹرمپ کا ایگو ہرٹ ہوا تو رُکا بھارت–امریکہ تجارتی معاہدہ، اب سر پر چڑھنا چاہ رہا ہے امریکہ!

امریکی وزیر لوٹنک نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے تجارتی معاہدے میں رکاوٹ اس لیے پیدا ہوئی کیونکہ وزیر اعظم مودی کی وجہ سے ٹرمپ کا ایگو زخمی ہوا۔ ٹرمپ چاہتے تھے کہ وزیر اعظم مودی انہیں فون کر کے منائیں، تاہم ٹرمپ کے برے مزاج کی وجہ سے وزیر اعظم نے کال نہیں کی۔

امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لوٹنک نے بھارت کے بارے میں اہم دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے ایک پوڈکاسٹ میں کہا کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ کسی پالیسی کے اختلاف کی وجہ سے نہیں رکا، بلکہ وجہ یہ تھی کہ وزیراعظم نریندر مودی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو براہِ راست فون نہیں کیا۔ لوٹنک کے مطابق ٹرمپ چاہتے تھے کہ مودی خود بات کریں اور ڈیل کو حتمی شکل دیں، لیکن ایسا نہ ہونے پر ٹرمپ نے اسے اپنے ایگو پر لے لیا۔

’انڈیا–یو ایس ڈیل مکمل ہونے والی تھی‘

ہاورڈ لوٹنک نے بتایا کہ تجارتی معاہدہ تقریباً مکمل ہو چکا تھا۔ بھارت کو اسے فائنل کرنے کے لیے تین جمعہ کا وقت دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیل مکمل تھی اور ٹرمپ خود اسے حتمی شکل دینا چاہتے تھے، بس مودی کو انہیں فون کرنا تھا۔ لیکن بھارتی جانب سے فون نہ آنے کی وجہ سے معاملہ رک گیا۔

…پھر دیگر ممالک نے فائدہ اٹھایا

بھارت کی دیری کا فائدہ دیگر ممالک کو حاصل ہوا۔ لوٹنک نے کہا کہ ہم نے سوچا تھا کہ بھارت کے ساتھ ڈیل پہلے ہوگی، لیکن فون نہ آنے پر امریکہ نے انڈونیشیا، فلپائن اور ویتنام کے ساتھ تجارتی معاہدہ کر لیا۔ برطانیہ کے وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے وقت ختم ہونے سے پہلے ٹرمپ کو فون کیا اور اگلے دن ڈیل کا اعلان ہو گیا۔

پرانی شرائط اب ختم، بھارت کو راحت نہیں دیں گے

امریکی حکام کے مطابق بھارت کے لیے بری خبر یہ ہے کہ پہلے والی شرائط ختم ہو چکی ہیں۔ لوٹنک نے صاف کہا کہ امریکہ اب اس پرانی ڈیل سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ اگر اب مذاکرات ہوتے ہیں تو بھارت کو نئی اور مشکل شرائط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ٹرمپ کے فون اور مودی کا احتیاطی رویہ

رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال جولائی میں ٹرمپ نے مودی کو چار بار فون کیا، لیکن وزیرِ اعظم نے بات نہیں کی۔ بھارت کو خدشہ تھا کہ ٹرمپ بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، ٹرمپ کی بھارت–پاکستان میں ثالثی کی کوشش کو بھی مودی نے مسترد کیا، جس سے ٹرمپ ناراض ہوئے۔

بھارت پر ٹرمپ کے ٹیرِف کا بوجھ بڑھا

اس ایگو کی لڑائی سے بھارت کو نقصان ہوا۔ ٹرمپ نے بھارت پر پہلے 25 فیصد اور بعد میں 50 فیصد ٹیرِف لگا دیا، جس میں 25 فیصد روس سے تیل خریدنے کی وجہ سے ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس سے روس کو یوکرین جنگ میں مدد مل رہی ہے۔ بھارت کا موقف ہے کہ یہ سزا غیر منصفانہ ہے اور اسے ہٹایا جائے۔

امریکہ کی تجارتی خسارے کی فکر

امریکہ کے ساتھ بھارت کا تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے۔ 2024-25 میں یہ 41.18 بلین ڈالر تھا، جبکہ گزشتہ سالوں میں یہ 22 سے 35 بلین ڈالر کے درمیان رہا۔ امریکہ اس بڑھتے ہوئے خسارے سے فکر مند ہے۔

ٹرمپ کے ایگو کی وجہ سے اب کیا ہوگا؟

اگرچہ بعد میں مودی اور ٹرمپ نے فون پر بات کی، وزیرِ اعظم کے جنم دن اور دیوالی پر بھی گفتگو ہوئی، لیکن تجارتی معاہدہ ابھی زیرِ التواء ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب بھارت کو اس معاملے کو حتمی شکل دینے کے لیے زیادہ محنت کرنی ہوگی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read