Bharat Express DD Free Dish

India US cooperation

بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے اور وسیع بی ٹی اے (BTA) کے تحت مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے واشنگٹن میں امریکی ہم منصب کے ساتھ اہم ملاقات ہوئی، جسے وزارتِ تجارت و صنعت نے معاہدے کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر اتفاقِ رائے نہیں بن سکا ہے۔ ایکسیوس (Axios) کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر سے ہی اس معاہدے کی مخالفت ہو رہی ہے۔

امریکی وزیر لوٹنک نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے تجارتی معاہدے میں رکاوٹ اس لیے پیدا ہوئی کیونکہ وزیر اعظم مودی کی وجہ سے ٹرمپ کا ایگو زخمی ہوا۔ ٹرمپ چاہتے تھے کہ وزیر اعظم مودی انہیں فون کر کے منائیں، تاہم ٹرمپ کے برے مزاج کی وجہ سے وزیر اعظم نے کال نہیں کی۔

وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونا لڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فون پر اہم گفتگو کی۔ اس موقع پر دونوں لیڈروں نے بھارت اور امریکہ کے جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور دونوں جانب سے باہمی تعلقات میں مضبوطی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر دونوں ممالک کے درمیان گہرے اختلافات کی عکاسی کرتی ہے، لیکن یہ مذاکرات کو مکمل طور پر ختم کرنے کا اشارہ نہیں۔ بھارت اور امریکہ کے درمیان آزادانہ تجارت معاہدہ (ایف ٹی اے) طویل عرصے سے زیر بحث ہے۔

جیسوال نے کہا کہ بھارت اور امریکہ کے تعلقات نے ماضی میں کئی سیاسی اور اقتصادی تبدیلیوں کا کامیابی سے سامنا کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک نے دفاع، ٹیکنالوجی، اور تجارت جیسے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک مضبوط عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔

یہ توسیع بھارت اور امریکہ کے درمیان گہرے ہوتے تعلقات کی عکاسی کرتی ہے، جہاں بھارتی ڈائسپورا نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سے قبل رواں سال جنوری میں، امریکہ نے بنگلورو میں اپنا نیا قونصلیٹ کھولا، جو بھارت میں اس کا پانچواں قونصلیٹ ہے۔

آپ کو بتادیں کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ فون پر بات چیت کا ارادہ ظاہر کیا ہے تاکہ بھارت-امریکہ تجارت معاہدے کو حتمی منظوری دینے سے قبل اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان مجوزہ فون کال کے لیے دونوں حکومتیں رابطہ کاری کر رہی ہیں، کیونکہ  پی ایم مودی اس وقت بھارتی پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں مصروف ہیں۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو 2030 تک 190 بلین ڈالر سے بڑھا کر 500 بلین ڈالر تک لے جانے کے ہدف کا حصہ ہے۔

گراہم کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ فیصلہ کن اقدام کرنے کے لیے تیار ہے اور پیوتن کو 14 جولائی تک فوجی آپریشن روکنے کے لیے 50 دن کا الٹی میٹم دیا گیا ہے بصورت دیگر انہیں سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا جس میں تیل خرید کر روس کی معیشت کو سہارا دینے والے ممالک پر جرمانے عائد کرنا بھی شامل ہے۔