واشنگٹن: ایک سینئر بھارت۔امریکہ پالیسی ماہر نے کہا ہے کہ دفاعی تعاون، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز آئندہ برسوں میں بھارت اور امریکہ کے تعلقات کے اگلے مرحلے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان بعض سیاسی اور تجارتی مسائل ابھی حل طلب ہیں، تاہم اس کے باوجود اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون کی رفتار برقرار رکھنے کی مشترکہ خواہش واضح طور پر نظر آتی ہے۔ آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن (او آر ایف) امریکہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر دھرو جے شنکر نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطحی سیاسی رابطوں میں وقتی رکاوٹیں ضرور آئی ہیں، لیکن دفاع، ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون مسلسل آگے بڑھا ہے۔ ان کے مطابق یہی تعاون 2026 میں دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
دھرو جے شنکر نے کہا کہ بھارت۔امریکہ تعلقات میں مجموعی طور پر ایک طرح کا استحکام آیا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ستمبر کے وسط سے سال کے اختتام تک کم از کم چار مرتبہ بات چیت کی، جبکہ ایک مختصر وقفے کے بعد کابینہ سطح کے روابط بھی دوبارہ شروع ہو گئے۔ ان کے مطابق یہ رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک اختلافات کے باوجود بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے دفاع اور توانائی کے شعبے میں طے پانے والے بعض فائدہ مند معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی دباؤ کے ادوار میں بھی عملی تعاون جاری رہا ہے۔ جے شنکر کے مطابق دفاعی شراکت داری بھارت۔امریکہ تعلقات کے سب سے مضبوط ستونوں میں سے ایک بنی ہوئی ہے۔ فوجی سطح پر روابط میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس میں تینوں افواج پر مشتمل مشترکہ مشقیں، تربیتی پروگرام اور دفاعی سازوسامان کی فروخت شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فوجی سے فوجی رابطوں میں اب ایک اچھی سمجھ بوجھ پیدا ہو چکی ہے، تاہم تاریخی طور پر سب سے بڑا چیلنج یہ رہا ہے کہ دفاعی تعلقات کو محض فروخت سے آگے بڑھا کر مشترکہ پیداوار اور ترقی تک کیسے لے جایا جائے۔ اگرچہ اس میدان میں پیش رفت یکساں نہیں رہی، مگر جے شنکر نے کہا کہ مستقبل کے سب سے زیادہ امکانات پرانی ٹیکنالوجی کے بجائے جدید اور مخصوص صلاحیتوں میں پوشیدہ ہیں۔ انہوں نے خودکار زیرِ آب نظام اور کاؤنٹر ڈرون صلاحیتوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ دلچسپ پیش رفت انتہائی جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ ان کے مطابق ان میدانوں میں بھارت کی عملی ضروریات موجود ہیں اور امریکہ تکنیکی اعتبار سے مضبوط پوزیشن رکھتا ہے، جس سے گہرے تعاون کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اس پیش رفت کا انحصار حکومتوں کے درمیان معاہدوں سے زیادہ نجی شعبے کی شراکت داری پر ہوگا۔
مصنوعی ذہانت کو بھی دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا ایک اہم شعبہ قرار دیا گیا، اگرچہ جے شنکر نے تسلیم کیا کہ اس حوالے سے دونوں کی ترجیحات مکمل طور پر یکساں نہیں ہیں۔ بھارت کا زور ایسے اے آئی اطلاقات پر ہے جو تیزی سے نافذ کیے جا سکیں اور عوامی فائدے کے ساتھ تجارتی اعتبار سے بھی مؤثر ہوں۔ اس کے برعکس امریکہ جدید ترین اے آئی ترقی میں قیادت کو ترجیح دے رہا ہے، جو بڑی حد تک عالمی اسٹریٹجک مسابقت سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں مفادات میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے، وہاں تعاون جاری ہے۔ گوگل، مائیکروسافٹ اور اوپن اے آئی جیسی بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بھارت میں بھاری سرمایہ کاری، بھارت کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم اور انسانی وسائل پر اعتماد کی عکاس ہے۔ جے شنکر نے توانائی کے شعبے میں تعاون کے تسلسل پر بھی زور دیا اور کہا کہ یہ وہ میدان ہے جہاں وسیع سیاسی سست روی کے باوجود عملی معاہدوں نے ٹھوس نتائج دیے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




