Bharat Express DD Free Dish

bilateral relations India US

مصنوعی ذہانت کے عہد میں جہاں ڈیجیٹل معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، وہیں سیمی کنڈکٹرز اور متعلقہ ٹیکنالوجیز کی رسد کا نظام عالمی سیاست اور معیشت دونوں کے لیے کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اسی تناظر میں ”پیکس سیلیکا“ نامی ایک ابھرتا ہوا بین الاقوامی فریم ورک سامنے آیا ہے، جو امریکہ کی قیادت میں قابلِ اعتماد ٹیکنالوجی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور جس میں ہندوستان ایک اہم شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔

امریکہ نے بھارت کے شانتی بل 2025 کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان انرجی تحفظ کے شعبے میں تعاون مضبوط بنانے اور پُرامن سول نیوکلیئر شراکت داری کو آگے بڑھانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس قانون سے نہ صرف بھارت کے جوہری توانائی کے شعبے میں اصلاحات آئیں گی بلکہ بھارت۔امریکہ تعلقات کو بھی نئی مضبوطی ملے گی۔

ایک سینئر بھارت۔امریکہ پالیسی ماہر نے کہا ہے کہ دفاعی تعاون، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز آئندہ برسوں میں بھارت اور امریکہ کے تعلقات کے اگلے مرحلے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان بعض سیاسی اور تجارتی مسائل ابھی حل طلب ہیں، تاہم اس کے باوجود اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون کی رفتار برقرار رکھنے کی مشترکہ خواہش واضح طور پر نظر آتی ہے۔

سرجیو گور نے کہا ’’امریکہ بھارت کے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ میں نے وزیراعظم مودی کے ساتھ شاندار ملاقات کی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ وزیر اعظم مودی کو ایک عظیم اور ذاتی دوست سمجھتے ہیں۔‘‘