Great Nicobar Island Project: ’’موڈانی کاروباری سلطنت کا حصہ بننے جا رہا ہے گریٹ نکوبار پروجیکٹ‘‘ کانگریس کا مودی حکومت پر ماحولیاتی تباہی پھیلانے کا الزام
جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ گریٹ نکوبار پروجیکٹ دراصل ایک وسیع ’’موڈانی‘‘ کاروباری سلطنت کا حصہ بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس منصوبے سے شدید ماحولیاتی اور انسانی نقصان ہوگا۔
Minister Against Minorities: مسلمانوں کے اقلیتی درجہ سے متعلق بیان پر تنازع، اسدالدین اویسی کا کرن رجیجو پر سخت حملہ، کہا-’’اقلیتوں کے نہیں بلکہ اقلیت مخالف وزیر ہیں رجیجو‘‘
یہ تنازع اس مبینہ بیان کے بعد شروع ہوا جس میں کرن رجیجو نے مسلمانوں کی اقلیتی حیثیت کا موازنہ پارسی برادری سے کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی اتنی زیادہ ہے کہ وہ دنیا کا چھٹا بڑا ملک بن سکتی ہے، جبکہ پارسیوں کی تعداد محض تقریباً 53 ہزار ہے۔
Rahul Gandhi slams Centre: راہل گاندھی کا مرکز پر حملہ، پیپر لیک معاملے پر وزیرتعلیم کے استعفے کا مطالبہ، وزیراعظم مودی کی خاموشی پر بھی اٹھائے سوال
اس معاملے پر انڈین یوتھ کانگریس نے بھی احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ کرناٹک یوتھ کانگریس 21 مئی کو بنگلورو میں ’’راج بھون چلو‘‘ مارچ نکالے گی، جس میں کانگریس کے کئی سینئر رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔ مرکزی وزیرِ تعلیم نے اس تنازع کے بعد اعلان کیا ہے کہ اگلے سال سے این ای ای ٹی-یو جی امتحان کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ (CBT) موڈ میں کرایا جائے گا، جبکہ دوبارہ امتحان 21 جون کو منعقد ہوگا۔
CM of Keralam: کیرالا میں کانگریس قانون ساز پارٹی لیڈر کا اعلان، وی ڈی ستیسن ہوں گے نئے وزیراعلیٰ، جلد ہوگی نئی حکومت کی تشکیل
کانگریس کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ہفتے سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی مشاورت اور قیادت کے لیے اندرونی رسہ کشی کے بعد سامنے آیا۔ اس دوران کیرالا کے کئی سرکردہ رہنما مسلسل دہلی کے دورے کرتے رہے۔
Tamil Nadu: وزیراعلیٰ سی جوزف وجے کی قیادت والی ٹی وی حکومت 144 ووٹوں کے ساتھ اسمبلی فلور ٹیسٹ میں کامیاب، ڈی ایم کے کا واک آؤٹ
تملگا ویٹری کزگم کو کانگریس، سی پی آئی، سی پی آئی ایم، وی سی کے اور انڈین یونین مسلم لیگ کی حمایت حاصل ہوئی۔ اتحادی جماعتوں کی حمایت کے بعد حکومت کی مجموعی طاقت 120 ارکان تک پہنچ گئی، تاہم 144 ووٹ ملنے سے یہ اشارہ ملا کہ اے آئی اے ڈی ایم کے کے کچھ باغی اراکین نے بھی پارٹی وہپ کے خلاف جا کر حکومت کی حمایت کی۔
Amit Shah Reduces Convoy Size: وزیراعظم مودی کی اپیل کے بعد وزیرداخلہ امت شاہ نے قافلے میں کی کمی، مغربی ایشیا بحران کے درمیان ایندھن بچت پربڑا اقدام
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے حکام کو یہ ہدایت بھی دی ہے کہ جہاں ممکن ہو ان کے قافلے میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کو شامل کیا جائے۔ تاہم اس مقصد کے لیے نئی گاڑیوں کی خریداری نہیں کی جائے گی، بلکہ موجودہ وسائل ہی استعمال کیے جائیں گے۔
PM Reduces Convoy Size: وزیراعظم مودی کے قافلے میں شامل گاڑیوں کی تعداد میں نمایاں کمی، الیکٹرک گاڑیوں کو شامل کرنے کی ہدایت
وزیراعظم نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج کے دور میں حب الوطنی صرف سرحدوں پر قربانی دینے تک محدود نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی میں ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا بھی قومی خدمت ہے۔ انہوں نے عوام سے پٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں کمی لانے، پبلک ٹرانسپورٹ، کار پولنگ اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے پر زور دیا تھا۔
CM Vijay to face floor test: وزیراعلیٰ سی جوزف وجے آج اسمبلی میں کریں گے فلور ٹیسٹ کا سامنا، اے آئی اے ڈی ایم کے میں اندرونی اختلافات کی قیاس آرائیاں تیز
ٹی وی کے حکومت کو کانگریس، سی پی آئی، سی پی ایم، وی سی کے اور آئی یو ایم ایل کی حمایت حاصل ہے۔ آج کا فلور ٹیسٹ صرف سی جوزف وجے کے لیے اکثریت ثابت کرنے کا امتحان نہیں بلکہ اے آئی اے ڈی ایم کے کے سیاسی اتحاد اور داخلی یکجہتی کے لیے بھی اہم مانا جا رہا ہے۔
BJP-EC’s chor bazaar: بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی ملی بھگت کا الزام، منوج اگروال کو چیف سکریٹری بنائے جانے پر راہل گاندھی کا سخت ردعمل
پیر کے روز مغربی بنگال کی نئی بی جے پی حکومت نے ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر منوج کمار اگروال کو چیف سکریٹری مقرر کیا تھا۔ اسمبلی انتخابات سے قبل ترنمول کانگریس اور کانگریس مسلسل یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ الیکشن کمیشن مغربی بنگال میں بی جے پی کے اشاروں پر کام کر رہا ہے۔
Assam New Govt: این ڈی اے حکومت کے تیسرے دور کا خیرمقدم، وزیراعظم مودی نے ہمنتا بسوا سرما کو دوسری بار آسام کا وزیراعلیٰ بننے پر دی مبارکباد
ہمنتا بسوا سرما نے گوہاٹی میں منعقد شاندار تقریب میں مسلسل دوسری بار وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ آسام میں مسلسل دو مدت تک وزیراعلیٰ رہنے والے پہلے غیر کانگریسی رہنما بن گئے ہیں۔ حلف برداری تقریب میں امت شاہ، نرملا سیتارمن اور این ڈی اے حکمراں ریاستوں کے کئی وزرائے اعلیٰ اور نائب وزرائے اعلیٰ بھی شریک ہوئے۔





