Bharat Express DD Free Dish

India politics

مرکزی کابینہ نے 10 جون 2026 کو ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ کا ایک اہم دن قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کے اعزاز میں ایک قرارداد منظور کی۔ کابینہ کے مطابق مودی نے مسلسل 4,399 دن تک منتخب وزیراعظم کے طور پر خدمات انجام دے کر جواہرلال نہرو کا 4,398 دن کا ریکارڈ پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا ہے کہ مرکز کو موجودہ معاشی صورتحال، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں کے مسائل اور عوامی مفاد سے جڑے دیگر معاملات پر فوری طور پر آل پارٹی میٹنگ بلانی چاہیے۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے یکم جون کو 10 ریاستوں کی 24 راجیہ سبھا نشستوں کے لیے دو سالہ مدت مکمل ہونے پر انتخابات کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر، تمل ناڈو اور اڈیشہ کی ایک ایک خالی نشست کے لیے ضمنی انتخابات کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

فالٹا اسمبلی حلقے میں جہانگیر خان نے ری پولنگ سے دو دن قبل ہی انتخابی میدان چھوڑنے کا اعلان کر دیا تھا، اس کے باوجود انہیں 7783 ووٹ حاصل ہوئے اور وہ چوتھے مقام پر رہے۔ وہیں شمبھو ناتھ کرمی کو 40 ہزار 645 ووٹ ملے اور وہ دوسرے نمبر پر رہے۔

حالیہ اضافے سے قبل 15 مئی کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 3 روپے اضافہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 19 مئی کو 90 پیسے فی لیٹر کا اضافہ ہوا، جبکہ 23 مئی کو پٹرول 87 پیسے اور ڈیزل 91 پیسے فی لیٹر مزید مہنگا کیا گیا۔

اسمبلی حلقے میں 21 مئی کو دوبارہ پولنگ کرائی گئی تھی۔ الیکشن کمیشن نے 29 اپریل کو ہوئے اسمبلی انتخابات کے دوران بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور جمہوری عمل میں رکاوٹوں کے الزامات کے بعد ری پولنگ کا حکم دیا تھا۔

یہ سیاسی تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب راہل گاندھی حالیہ دنوں میں وزیر اعظم مودی کی اقتصادی اور خارجہ پالیسیوں پر مسلسل حملہ آور ہیں۔ راہل گاندھی نے وزیر اعظم کے پانچ ملکی دورے، معاشی صورتحال اور اٹلی میں وزیر اعظم جارجیا میلونی کو ’’میلوڈی‘‘ ٹافیاں تحفے میں دینے کے معاملے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

وزیراعظم مودی نے نتن نبین کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی نتن نبین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی سادہ شخصیت اور تنظیم کے لیے لگن پارٹی کو مزید مضبوط کرے گی۔

راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ملک شدید معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے، لیکن حکومت اس صورتحال کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے سوشل میڈیا ٹرینڈز اور ویڈیوز میں مصروف ہے۔

راہل گاندھی نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں ایک ’’معاشی طوفان‘‘ آنے والا ہے، جس کے نتیجے میں شدید مہنگائی ہوگی، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھیں گی اور کھاد کی قلت پیدا ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ مودی حکومت نے بھارت کا معاشی نظام فروخت کر دیا ہے۔ اب جو معاشی بحران آنے والا ہے، اس سے حکومت عوام کو نہیں بچا سکے گی۔‘‘