نئی دہلی: ذرائع کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے حالیہ ملکی دوروں کے دوران اپنے قافلے میں شامل گاڑیوں کی تعداد میں نمایاں کمی کی ہے، جبکہ اسپیشل پروٹیکشن گروپ (SPG) کے تمام لازمی سکیورٹی انتظامات برقرار رکھے گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں خطاب کے بعد گجرات اور آسام کے دوروں کے دوران وزیراعظم کے قافلے کا سائز کم کیا گیا۔ قافلے میں گاڑیوں کی تعداد کم کیے جانے کے باوجود وزیراعظم کی حفاظت سے متعلق تمام اہم سکیورٹی انتظامات ایس پی جی رہنما خطوط کے مطابق برقرار رکھے گئے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد سادگی، ایندھن کی بچت اور وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کا پیغام دینا ہے۔
قافلے میں الیکٹرک گاڑیوں کو شامل کرنے کی ہدایت
ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے حکام کو جہاں ممکن ہو اپنے قافلے میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کو شامل کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس مقصد کے لیے نئی گاڑیوں کی خریداری نہیں کی جائے گی، بلکہ دستیاب وسائل کو ہی استعمال میں لایا جائے گا۔ یہ اقدام وزیراعظم کی جانب سے عوام کے سامنے رکھی گئی “سات اپیلوں” کے مطابق ہے، جن کا مقصد درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا اور ماحول دوست متبادل کو فروغ دینا ہے۔
عوام سے پٹرول، ڈیزل اور خوردنی تیل کے کم استعمال کی اپیل
اتوار کو سکندرآباد میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا تھا کہ آج کے دور میں حب الوطنی صرف سرحدوں پر قربانی دینے تک محدود نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی میں ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا بھی قومی خدمت ہے۔ انہوں نے عوام سے پٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں کمی لانے، پبلک ٹرانسپورٹ، کار پولنگ اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے کی اپیل کی۔ اسی کے ساتھ انہوں نے خوردنی تیل کے کم استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اس کی درآمد پر بھاری زرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کسانوں سے کیمیائی کھادوں کے استعمال میں کمی اور قدرتی کھیتی کو اپنانے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی زراعت نہ صرف معیشت کو مضبوط بنائے گی بلکہ ماحولیات کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



