Bharat Express DD Free Dish

India-Maldives Relation

بھارت اور مالدیپ کے درمیان دو طرفہ تعلقات نے گزشتہ آٹھ برسوں میں نمایاں ترقی کی ہے، جس کا واضح ثبوت تجارت، سیاحت اور اسٹریٹجک تعاون میں ہونے والا غیر معمولی اضافہ ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق، بھارت اور مالدیپ کے درمیان دو طرفہ تجارت تین گنا بڑھ چکی ہے، جس سے دونوں ممالک کی معیشتوں میں باہمی انحصار مزید مضبوط ہوا ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ دونوں ممالک کو ماحولیاتی تبدیلی اور اس کے مسائل کا اندازہ اور دونوں ممالک اس کی بہتری کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

ہندوستان نے مالدیپ کی وزارتِ دفاع کو 72 ہیوی وہیکلز اور دیگر آلات بھی فراہم کیے۔ دونوں ممالک نے سفارتی تعلقات کے قیام کی 60ویں سالگرہ کے موقع پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ یہ دورہ ہندوستان اور مالدیپ کے درمیان سفارتی تعلقات کے 60 سال کا جشن ہے۔

مالدیپ میں 1988 میں بغاوت کی کوشش کے دوران ہندوستان کی فوری فوجی مدد نے دیرپا اعتماد پیدا کیا۔ اس کے بعد ہندوستانی فوجیوں کے تیزی سے انخلاء سے مالدیپ کی خودمختاری کو یقینی بنانے میں مدد ملی، جس سے ہندوستان کی شبیہ ایک قابل اعتماد اتحادی کے طور پر مضبوط ہوئی۔

ہندوستانی تارکین وطن کا کہنا ہے کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور دوستی میں اضافہ ہوگا۔ مالدیپ میں ہندوستانی حکومت کی مدد سے چلائے جا رہے کئی منصوبے، جیسے بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی ترقی کے کام، اس دوستی کی علامت ہیں۔ تارکین وطن کا ماننا ہے کہ پی ایم مودی کا یہ دورہ دونوں ممالک کی معیشتوں کو مزید مضبوط کرے گا اور مستقبل میں تعاون کے نئے دروازے کھولے گا۔

بیان میں یہ بتایا گیا کہ ہندوستان نے ضرورت کے وقت مالدیپ کی مدد کی ہے اور اس ٹریژری بل کی سبسکرپشن کے ساتھ ساتھ ہندوستانی حکومت نے اس سال کے شروع میں مالدیپ کو ضروری اشیاء کی برآمد کے لیے خصوصی کوٹہ بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا تھا۔

مذاکرات کے دوران دونوں رہنماوں نے انسداد دہشت گردی کی کارروائی اور بنیاد پرستی کے خلاف اقدامات، سائبر سیکیورٹی، دفاعی صنعت اور میری ٹائم سیکیورٹی میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیاہے۔

تعلقات میں دراڑ کے باوجود، ہندوستان مالدیپ کو چینی، گندم، چاول، پیاز اور انڈے جیسی ضروری اشیاء کی برآمدات جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہ بات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب ایم ڈی پی نے اتوار (28 جنوری) کو کابینہ پر ووٹنگ سے قبل صدر معزو کی کابینہ کے چار ارکان کی پارلیمانی منظوری کو روکنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد حکومت کے حامی ارکان اسمبلی نے احتجاج شروع کر دیا۔