Bharat Express DD Free Dish

India-Canada Relations

تجارت، ٹیکنالوجی، سلامتی، توانائی، تعلیم اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارت کینیڈا کے ساتھ تعمیری اور دور اندیش اسٹریٹجک شراکت داری کے لیے پرعزم ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے ممکنہ دورہ کینیڈا سے بھارت اور کینیڈا کے تعلقات کو نئی سمت ملنے کی امید ہے۔ بھارتی ہائی کمشنر دنیش کے پٹنائک کے مطابق، دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی اور سکیورٹی سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے پر زور۔ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کا ہندوستان کا دورہ بھی شروع ہونے والا ہے۔

وزیرِاعظم مودی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط اس شراکت داری کی اصل طاقت ہیں۔ مصنوعی ذہانت، صحت، زراعت اور اختراع کے شعبوں میں جامعات کے درمیان نئی شراکت داریاں قائم کی جائیں گی، جبکہ کینیڈین یونیورسٹیاں بھارت میں اپنے کیمپس بھی قائم کریں گی۔

مارک کارنی کے ساتھ مذاکرات کے بعد 2030 تک 50 ارب ڈالر تجارت اور یورینیم کی طویل مدتی فراہمی پر اتفاق۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ مارک کارنی کا یہ دورہ دوطرفہ تعلقات کے تمام شعبوں کو نئی توانائی فراہم کرے گا۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بھارت اور کینیڈا کے تعلقات کو معمول پر لانے کا عمل جاری ہے، اور پیر کو ہونے والے مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان اہم اسٹریٹجک اور اقتصادی امور پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی اور دفاع میں نئی شراکت داری پر توجہ۔ بھارت کو دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی بڑی معیشت اور عالمی تجارت و ٹیکنالوجی کا اہم مرکز قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون مستقبل میں اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا۔

ذرائع کے مطابق وزیر تجارت پیوش گوئل اور وزیر خزانہ نرملا سیتارمن جلد کینیڈا کا دورہ کر سکتے ہیں، جبکہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال اگلے ماہ اوٹاوا جائیں گے۔ اسی سلسلے میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کے درمیان حالیہ بات چیت میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی شراکت داری اور مصنوعی ذہانت میں تعاون پر اتفاق کیا گیا۔

امریکہ کی بھاری ٹیرف پالیسی کے بعد بھارت کے ساتھ دو طرفہ تجارت کو وسعت دینے کی تیاری۔ یہ دورہ ایسے وقت میں متوقع ہے جب کینیڈا اپنی عالمی تجارت کو متنوع بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور امریکہ کی جانب سے عائد بھاری محصولات کے اثرات سے نمٹنے کے لیے نئے شراکت داروں کی تلاش کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایسے گروہ اب بھی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور دنیا بھر میں پرتشدد کارروائیوں کی منصوبہ بندی، مالی معاونت اور ان پر عمل درآمد کی کوششوں میں ملوث ہیں۔