Bharat Express DD Free Dish

incident

جاپان کے موسمیاتی ادارے (JMA) اور پیسیفک سونامی وارننگ سینٹر نے تصدیق کی ہے کہ اس زلزلے کے بعد سونامی کی کوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی۔ اگرچہ زلزلے کا مرکز سمندر کے اندر تھا، لیکن 50 کلومیٹر کی گہرائی کی وجہ سے سونامی کے خطرے کو کم سمجھا گیا ہے۔

پی ایم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش کے کھنڈوا میں پیش آئے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر مجھے گہرا دکھ ہوا ہے۔ اس مشکل وقت میں میری ہمدردیاں متاثرہ افراد اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔

بلوچستان پاکستان کا سب سے غیر مستحکم اور شورش زدہ علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ دھماکے سے چند گھنٹے قبل بھی پاکستانی فوج کے اہلکار ریلوے ٹریک کی صفائی کے دوران ایک اور بم دھماکے میں زخمی ہو گئے تھے۔

امریکی سونامی وارننگ سسٹم کے مطابق، فی الحال کسی بڑی سونامی کا امکان ظاہر نہیں کیا گیا، تاہم الرٹ جاری ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق ان حادثات میں 12 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہیں ملبے سے زندہ نکالا گیا۔ شدید زخمیوں کو رشی کیش میں واقع آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS) منتقل کیا گیا ہے۔

موصولہ معلومات کے مطابق یہ واقعہ 26 اگست کو ایمیٹی یونیورسٹی کی پارکنگ میں پیش آیا۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جانوی مشرا اور اس کے ساتھی شِیکھر کو گاڑی میں یرغمال بنا کر تھپڑ مار رہے ہیں۔

ٹکر اتنی شدید تھی کہ کار مکمل طور پر تباہ ہو گئی، اور گاڑی میں سوار تینوں افراد کو نکالنے کے لیے گاڑی کے دروازے کاٹنے پڑے۔ مقامی لوگوں نے فوری طور پر پولیس اور ایمبولینس کو اطلاع دی، تاہم جب تک مدد پہنچتی، تینوں افراد دم توڑ چکے تھے۔

وزیراعلیٰ نے کہا:"میں مسلسل ضلعی انتظامیہ اور آفات سے نمٹنے والے حکام کے ساتھ رابطے میں ہوں۔ تمام ضروری اقدامات تیزی سے کیے جا رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں بچاؤ اور راحت کا کام پوری سنجیدگی کے ساتھ جاری ہے۔"

علاقے کی تنگ گلیوں کے باعث امدادی کاموں میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔ جائے حادثہ تک نہ تو ایمبولینس پہنچ پا رہی ہے، نہ ہی ریسکیو گاڑیاں۔ این ڈی آر ایف اہلکاروں کو ہاتھوں سے ہی ملبہ ہٹانا پڑ رہا ہے، جس کے باعث کام میں تاخیر ہو رہی ہے۔

اترکاشی کے دھرالی علاقے میں ہوئی تباہی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پانی کی رفتار اور ملبے کے دباؤ نے لمحوں میں سب کچھ تہس نہس کر دیا۔