Bharat Express DD Free Dish

Health Benefits

ادرک کی چٹنی بنانے کے لیے چائے بنانے کے بعد بچی ہوئی ادرک سب سے پہلے نکال لیں۔ خیال رکھیں کہ اس پر چائے کی پتی یا زیادہ دودھ نہ لگا ہو۔ ادرک کو پانی سے ہلکا سا صاف کرلیں اور پھر اسے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ اگر ادرک کافی نرم ہو گئی ہے تو اسے براہ راست بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔چٹنی کو مزید ذائقے دار بنانے کے لیے اس میں تھوڑی ہری مرچ، لہسن اور ہرا دھنیا بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

اگر کسی فرد کو پہلے گردے میں پتھری ہو چکی ہے تو اس کی خوراک کا تعین اس بات پر بھی منحصر ہوگا کہ پتھری کس قسم کی تھی۔ اس لیے انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ’’یہ دو سبزیاں کبھی ساتھ نہ کھائیں‘‘ جیسی باتوں پر آنکھ بند کرکے یقین کرنا درست نہیں۔سبزیاں مجموعی طور پر صحت مند غذا کا اہم حصہ ہیں۔

بارش میں پکوڑے، سموسے اور کچوریاں کھانے کا مزہ ہی الگ ہوتا ہے، لیکن ان میں تیل کی مقدار زیادہ ہوسکتی ہے۔ زیادہ تیل والی غذائیں ہضم ہونے میں وقت لیتی ہیں اور گیس، تیزابیت یا پیٹ بھاری ہونے جیسی شکایات پیدا کرسکتی ہیں۔ اس لیے مانسون میں تلی ہوئی چیزیں کبھی کبھار اور کم مقدار میں کھانا بہتر ہے۔

بھنے ہوئے چنے بھی صحت مند اسنیک کا اچھا متبادل ہوسکتے ہیں۔ چنوں میں پروٹین اور فائبر پایا جاتا ہے۔ پروٹین جسم کے پٹھوں کے لیے ضروری ہے، جبکہ فائبر دیر تک پیٹ بھرا رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ اس وجہ سے بھوک لگنے پر بھنے چنے کھانے سے بار بار کچھ کھانے کی خواہش کم ہوسکتی ہے۔بادام، اخروٹ اور کاجو جیسے ڈرائی فروٹس بھی غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں۔

آج کل مارکیٹ میں "شوگر فری" یا "زیرو شوگر" کے نام سے بھی متعدد مصنوعات دستیاب ہیں۔ ان میں عموماً سوکرالوز، ایسپارٹیم، سیکرین یا اسٹیویا جیسے کم یا بغیر کیلوری والے میٹھے اجزا استعمال کیے جاتے ہیں، جو خون میں شوگر کی سطح پر کم اثر ڈالتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسی تمام مصنوعات مکمل طور پر صحت بخش ہوتی ہیں،

تحقیق کے مطابق صرف 10 سے 20 منٹ کا قیلولہ بھی جسم اور دماغ کو دوبارہ متحرک کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اس سے تھکن، ذہنی دباؤ اور سستی میں کمی آتی ہے، جبکہ انسان خود کو زیادہ چاق و چوبند محسوس کرتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دن میں 30 منٹ سے کم نیند لی جائے تو اس کے سب سے زیادہ فوائد حاصل ہوتے ہیں،

ماہرین کا کہنا ہے کہ غلط انداز میں بیٹھنا سروائیکل کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ پر کام کرتے وقت اگر گردن مسلسل آگے کی طرف جھکی رہے تو پٹھوں پر مسلسل دباؤ پڑتا ہے۔ اسی طرح موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال بھی اس مسئلے کو بڑھا دیتا ہے،

ڈاکٹروں کے مطابق کم پانی پینا، زیادہ دیر تک پیشاب روکنا، گیلے کپڑے طویل وقت تک پہننا اور ذاتی صفائی میں لاپرواہی انفیکشن کی بڑی وجوہات ہیں۔ ان حالات میں بیکٹیریا تیزی سے بڑھتے ہیں اور پیشاب کی نالی سے ہوتے ہوئے گردوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

تحقیق کے نتائج حیران کن رہے۔ سائنس دانوں نے پایا کہ سخت دل والے ہارٹ فیلئر (HFpEF) کے وہ مریض جو بیٹا بلاکرز لے رہے تھے، ان میں بیماری بگڑنے کے باعث اسپتال میں داخل ہونے کا خطرہ 74 فیصد زیادہ تھا۔ماہرین نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ بیٹا بلاکرز تمام مریضوں کے لیے نقصان دہ ہیں،

آم پنا صدیوں سے بھارت میں استعمال ہونے والا ایک روایتی مشروب ہے، جسے گرمیوں میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ کچے آم، مصالحوں اور قدرتی اجزاء سے تیار ہونے والا یہ مشروب نہ صرف ذائقے میں منفرد ہوتا ہے بلکہ صحت کے لیے بھی بے حد فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔