Bharat Express DD Free Dish

Gyanvapi Case

اترپردیش کے گیان واپی واقع گیان واپی مسجد احاطے میں جاری اے ایس آئی سروے کا کام ہفتہ کی  صبح پھر سے شروع ہوا۔ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے سروے پر روک لگانے سے انکار کردیا تھا۔

 الہ آباد ہائی کورٹ سے گیان واپی مسجد احاطے کا سروے کرنے کے لئے اے ایس آئی کو ہری جھنڈی ملنے کے بعد آج (4 اگست) سے دوبارہ سروے کا کام شروع ہوگیا ہے۔

نقوی نے کہا کہ ہندوستان میں پیدا ہونے والا مسلمان اس غلطی کا قصوروار نہیں ہے، لیکن غیر ملکی حملہ آور، جنہوں نے یہاں آکر مذہبی مقامات پر حملہ کیا اور لوٹ مار کی، اس کے ذمہ دار ہیں، جس کی وجہ سے ہندوستانی عوام کے دلوں میں ظلم و ستم کے جو  زخم ہیں ان پر مل کر مرہم لگانا چاہیے۔

گیانواپی کے اے ایس آئی سروے کو لے کر اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا بیان سامنے آیا ہے۔ سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ اگر گیانواپی کو مسجد کہا جائے گا تو اس پر تنازعہ پیدا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مسلم فریق سے تاریخی غلطی ہوئی ہے، میرے خیال میں یہ تجویز مسلم کمیونٹی کی طرف سے آنی چاہیے۔

وارانسی واقع گیان واپی مسجد احاطے کے اے ایس آئی سروے پر لگی روک کو الہ آباد ہائی کورٹ نے کل برقرار رکھا تھا۔ آج اس پر دوبارہ سماعت ہوئی، لیکن عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے اور اب تین اگست کو فیصلہ آئے گا۔

ایس پی لیڈر نے دعویٰ کیا کہ ملک میں زیادہ تر ہندو مندر اور تیرتھ استھل بودھ مٹھوں کو منہدم کر کے بنائے گئے تھے۔

Gyanvapi Masjid Case News: گیان واپی معاملے میں ہندو فریق کی نمائندگی کر رہے وکیل سبھاش نندن چترویدی نے کہا کہ عدالت نے اے ایس آئی سروے کے لئے ہماری درخواست قبول کرلی گئی ہے۔

گیان واپی احاطے کا اے ایس آئی سروے کرانے کے ہندو فریق کے مطالبے پر ضلع جج ڈاکٹر اجے کرشنا وشویش کی عدالت نے جمعہ کے روزاپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اس سے قبل عدالت نے 14 جولائی کوسماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

Gyanvapi Mosque:  بنچ نے کہا کہ چونکہ حکم امتناعی کے مضمرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہئے، اس لئے حکم میں متعلقہ ہدایات پرعمل درآمد اگلی تاریخ تک مؤخرکر دیا گیا ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کو گیان واپی مسجد احاطے میں مبینہ شیولنگ کا سروے کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔ اس سے پتہ چلے گا کہ اگر وہاں شیولنگ ہے تو وہ کتنا پرانا ہے۔