Bharat Express DD Free Dish

Gaza

فلسطینی پناہ گزینوں کے لئے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا) کے کمشنر جنرل نے اسرائیلی حملوں کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے غزہ کی پٹی میں روزانہ کم از کم 100 بچوں کی ہلاکت اورزخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) نے بچوں کے قتل عام کو ہولناک قراردیا ہے۔

اسرائیل نے غزہ میں کینسر کے علاج کے واحد خصوصی اسپتال کے ساتھ ساتھ ملحقہ میڈیکل اسکول کو بھی دھماکے سے اڑا دیا ہے۔ اسرائیل کے ذریعے ایک بارپھر اس طبی سہولت کو نشانہ بنانے کی مذمت کی جا رہی، جس پر حملہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ممنوع ہے۔ جمعہ کو اسرائیلی حملے …

اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کے روز کہا کہ گزشتہ دو دنوں کے فضائی حملے ’صرف شروعات‘ ہیں۔ اس کے بعد مزید سنگین حملے ہوں گے، اور تم اس کی پوری قیمت چکاؤ گے۔

اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور ٹام فلیچر نے سلامتی کونسل کو برسلز سے ویڈیو کال کے ذریعے بتایا کہ راتوں رات ہمارے بدترین خدشات سچ ہو گئے۔ غزہ پٹی میں فضائی حملے دوبارہ شروع ہو گئے۔

اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) نے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے حکم پرایک بارپھرغزہ پٹی میں زبردست فضائی حملہ کیا۔ اس حملے میں 250 سے زائد فلسطینی مارے گئے تھے۔

مریکہ نے ہفتے کی رات یمن پر اپنے حملوں میں 100 سے زائد افراد کو زخمی اور ہلاک کیا۔ وہیں یمنی حوثیوں نے اتوار کی شام امریکی جنگی جہاز پر جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا، جس کے بعد امریکہ نے یمن پر دوبارہ بمباری کی۔

حماس نے امریکی صدر کے اس تازہ ترین بیان کا خیر مقدم کیا  ہے۔ حماس کے  ایک عہدیدارقاسم نے  کہا کہ اگر امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات غزہ کے لوگوں کی نقلِ مکانی کے کسی بھی خیال سے دستبرداری کی نمائندگی کرتے ہیں تو ہم ان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

حماس کے ترجمان قاسم نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر امریکی صدر ٹرمپ کا یہ بیان غزہ پٹی کے لوگوں کو بےگھر کرنے کے اپنے خیالات سے پیچھے ہٹنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو ان کا استقبال ہے۔‘‘ قاسم نے مزید کہا کہ ’’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اسرائیلی قبضے کو جنگ بندی کے معاہدوں کی تمام شرائط پر عمل درآمد کرنے کا پابند بنا کر اس بیان کو مزید تقویت دی جائے۔‘‘

حماس نے اجلاس کے فیصلوں کو فلسطینی کاز کے لئے مثبت قدم قراردیا اور عرب ممالک سے کہا کہ وہ اس منصوبے کی کامیابی کے لئے عملی اقدامات کریں۔ حماس کا کہنا ہے کہ ہم عرب لیڈران کے اس موقف کی قدرکرتے ہیں، جوفلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت کرتا ہے۔

رفح شہر سے تعلق رکھنے والی ایک فلسطینی خاتون تساہل ناصر نے کہا، ’’رمضان کا مقدس مہینہ غزہ میں اپنی خوشیاں کھو چکا ہے۔ یہاں کوئی لالٹین ہے، کوئی سجاوٹ نہیں ہے اور نہ ہی ہلچل بھرے بازار ہیں۔ اس کے بجائے یہاں موت کی خاموشی ہے اور ہمیشہ تباہی کی بو پھیلتی رہتی ہے۔‘‘