Bharat Express DD Free Dish

Gaza

کوریڈور سے اسرائیلی فوجیوں کا مکمل انخلاء حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے پانچویں تبادلے کے ایک دن بعد ہوا ہے۔ ہفتے کے روز، فلسطینی گروپ نے اسرائیلی جیلوں میں قید 183 فلسطینی قیدیوں کے بدلے تین اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ جنگ سے تباہ حال غزہ پٹی پر قبضہ کرے گا اور فلسطینیوں کو کسی دوسری جگہوں پر بسائے جانے کے بعد اسے معاشی طور پر ترقی دے گا۔ غزہ کو ترقی دینے کی تجویز دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا تھا کہ فلسطینیوں کی نقل مکانی مستقل ہو گی۔ حالانکہ بعد میں وائٹ ہاؤس نے اس پر صفائی دی تھی کہ غزہ سے کوئی بھی نقل مکانی عارضی ہو گی۔

امریکہ کے صدرڈونالڈ ٹرمپ نے 4 فروری کو بنجامن نیتن یاہوکے ساتھ ایک پریس کانفرنس کی تھی۔ اس میں انہوں نے غزہ پٹی کی تعمیر نو کے لئے ایسا پلان پیش کیا تھا، جو غزہ کے ساتھ مسلم ممالک بھی تسلیم نہیں کریں گے۔

منگل کے روز، ٹرمپ نے غزہ کی ترقی کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطینیوں کی نقل مکانی مستقل ہو گی۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ان پر نسلی کشی کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا گیا۔ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عرب رہنماؤں نے اس کی مذمت کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو نے بدھ کے روز امریکی میڈیا کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ’’یہ پہلا اچھا خیال ہے جو میں نے سنا ہے۔ یہ ایک قابل ذکر خیال ہے۔ میرے خیال میں اسے آگے بڑھایا جانا چاہیے اور اس پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے - کیونکہ یہ سب کے لیے ایک مختلف مستقبل بنائے گا۔‘‘

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے بدھ کے روز اس خیال کو مسترد کر دیا کہ مصر غزہ کے لوگوں بے گھر ہونے میں مدد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مصری اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے۔

فلسطین کے صدر محمود عباس اور غزہ کے شہریوں نے بھی ڈونالڈ ٹرمپ کی پیشکش کو ازسرنو مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کبھی نہیں ہوسکتا ہے۔ ہاں ہم تکلیف میں ہیں، لیکن یہودیوں کے لئے ہم اپنا ملک نہیں چھوڑیں گے۔

قطر اور مصر کے ثالث لاکھوں فلسطینیوں کو شمال میں واپس جانے کی اجازت دینے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اسرائیل نے ثالثوں کے  ذریعہ حماس سے یہود کے زندہ ہونے کے ثبوت  کا مطالبہ کیا ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ حماس نے مصریوں کو یہ ثبوت دے دیے ہیں۔

جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ میں ہر روز انسانی امداد کے 600 ٹرکوں کو جانے کی اجازت دی جائے گی۔ ان میں سے 50 ایندھن لے جانے والے ٹرک اور 300 ٹرک شمال کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جہاں عام شہری سنگین صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔

ہگاری نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق، جنگ بندی اس وقت تک عمل میں نہیں آئے گی جب تک کہ حماس اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرتا ہے۔IDF کے مطابق، کچھ عرصہ قبل اس نے شمالی اور وسطی غزہ میں حماس کے ٹھکانوں پر توپ خانے سے گولہ باری اور کئی ڈرون حملے کیے تھے۔