Bharat Express DD Free Dish

FM Nirmala Sitharaman

حکومت نے شہروں کو ان کی معاشی صلاحیت کی بنیاد پر ’سٹی اکنامک ریجن‘ کے طور پر شناخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ شناخت سیاحت، مینوفیکچرنگ، خدمات اور لاجسٹکس جیسے شعبوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے گی۔

بجٹ میں لیتھیئم، کوبالٹ اور نکل جیسے اہم معدنیات کے درآمدی محصول میں کمی کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جس سے بیٹری بنانے کی لاگت میں کمی آئے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے بیٹری کی پیداوار کی لاگت میں تقریباً 15 سے 20 فیصد کمی ہوگی

وزیراعظم نریندر مودی نے 2026-27 کے بجٹ پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ موجودہ دور کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے والا ہے۔ انہوں نے مالیاتی وزیر نرملہ سیتارمن کو کامیاب بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد دی اور اسے تاریخی قرار دیا۔

وزیرخزانہ نرملا سیتا رمن نے اس بارانکم ٹیکس سلیب میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگلی تبدیلی تک پرانا نظام نافذ رہے گا۔ فی الحال، ٹیکس دہندگان کے پاس پرانے ٹیکس نظام یا نئے ٹیکس نظام کے تحت آئی ٹی آرفائل کرنے کا اختیار ہے۔

10 ہزار کروڑ روپے کنٹینر مینوفیکچرنگ کے لیے مختص کیے جائیں گے، 22 نئے واٹر ویز اور 3 مخصوص کوریڈور بنائے جائیں گے۔ پانچ علاقائی میڈیکل ہب قائم کیے جائیں گے اور بزرگ شہریوں کے لیے مضبوط صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی

کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے آج پیش ہونے والے بجٹ سے متعلق بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ سے مجھے کوئی امید نہیں ہے۔ بجٹ پیش ہونے سے پہلے پرینکا گاندھی کے علاوہ دیگراپوزیشن لیڈران کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔

ہر سال بجٹ پیش کیا جاتا ہے، لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ بجٹ کی شروعات کب اور کیوں ہوئی؟ انگریزوں کے دور سے لے کر آج کے ڈیجیٹل بجٹ تک، بھارت کے بجٹ نے اقتدار، پالیسی اور عام آدمی کی زندگی پر کس طرح اثر ڈالا ہے۔

جب وزیر خزانہ پارلیمنٹ ہاؤس میں اپنا 9واں بجٹ پیش کرنے پہنچیں، تو اعداد و شمار کے بجائے زیادہ بحث ان کی ساڑی پر ہوئی۔ معروف ’کانجیورم‘ ساڑی پہننا، جو لال بہی کھاتوں کے ساتھ مشہور ہے، محض اتفاق نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی داؤ ںسمجھا جا رہا ہے۔

بجٹ 2026 سے عام لوگوں کو کافی امیدیں وابستہ ہیں۔ عوام ٹیکس قوانین کو آسان بنانے، جی ایس ٹی نظام کو مزید مؤثر کرنے اور مصنوعی ذہانت سے جڑی ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے حکومتی پالیسی اقدامات کی توقع کر رہے ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت کے سامنے ایک طرف عوام کو راحت دینے کا دباؤ ہے تو دوسری طرف معیشت کو مستحکم رکھنے کی ذمہ داری بھی ہے۔ ایسے میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا بجٹ میں توازن قائم رکھا جاتا ہے یا پھر ترقیاتی اہداف کے لیے سخت معاشی فیصلے کیے جاتے ہیں۔ آج کا بجٹ نہ صرف آئندہ سال کی اقتصادی سمت طے کرے گا بلکہ عام آدمی کی روزمرہ زندگی پر بھی گہرا اثر ڈالے گا۔