Bharat Express DD Free Dish

FM Nirmala Sitharaman

تلنگانہ حکومت نے ریاستوں کو سرمایہ جاتی سرمایہ کاری کے لیے خصوصی امدادی اسکیم (ایس اے ایس سی آئی) کے تحت مرکزی حکومت سے اضافی 5 ہزار کروڑ روپے کی خصوصی مالی مدد کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ اسکیم چار زمروں میں تقسیم کی گئی ہے تاکہ مختلف سطح کے کاروباری افراد کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ ان میں شیشو کے تحت پچاس ہزار تک کے قرضوں کی فراہمی، کشور کے تحت پچاس ہزار سے زیادہ اور زیادہ سے زیادہ پانچ لاکھ روپے تک قرضوں کو کور کرنا، ترون کے تحت 5 لاکھ روپے سے زیادہ اور زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ روپے تک کے قرضوں کو کور کرنا، ترون پلس کے تحت 10 لاکھ روپے سے زیادہ اور زیادہ سے زیادہ 20 لاکھ روپے تک کے قرضے فراہم کیے جاتے ہیں۔

سیتارمن نے بتایا کہ کووڈ وبا کے بعد مرکزی حکومت کے اقدامات نے ملک کی معیشت کو مضبوط کیا ہے اور عالمی جھٹکوں کے باوجود مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔

سماجوادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ پریا سروج نے کہا کہ اس بجٹ میں کسانوں کے مفادات کا خیال نہیں رکھا گیا۔ عام لوگوں کی فلاح و بہبود کی بات بھی اس میں نظر نہیں آتی۔

طویل بحث کے بعد کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بدھ کے روزلوک سبھا میں تقریرکی۔ انہوں نے ہند-امریکہ ٹریڈ ڈیل (تجارتی معاہدہ) پربات کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ہندوستان کے اعداد وشمار کی نگرانی کررہا ہے، ڈالرکوچیلنج کیا جا رہا ہے اورامریکہ کے غلبہ کوچیلنج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایوان سے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کوبھی مخاطب کیا۔

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں پیر، 2 فروری کا دن انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ لوک سبھا میں صدرِ جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ دوپہر 12 بجے شروع ہونے والی اس بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت سیاسی نوک جھونک کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے اپنے بجٹ خطاب میں کہا کہ یکم اپریل سے نافذ ہونے والے نئے انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت اگر کسی کی آمدنی میں کوئی بے قاعدگی پائی جاتی ہے یا نادانستہ طور پر ٹیکس چھپایا جاتا ہے تو سزا کے بجائے صرف جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے پیش کیے گئے مرکزی بجٹ کو ’’وکست بھارت بجٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیرِاعظم مودی کے عزم اور وژن کی بھرپور تعریف کی ہے۔

ممتا بنرجی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ مرکزی بجٹ میں مغربی بنگال کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے لیے ایک روپیہ تک مختص نہیں کیا گیا،

وزیر خزانہ نے انکم ٹیکس ریٹرن میں ترمیم کی آخری تاریخ کو 31 دسمبر سے بڑھا کر 31 مارچ کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جس کے لیے صرف معمولی فیس ادا کرنی ہوگی۔