Bharat Express DD Free Dish

Emmanuel Macron

اگر سیبسٹین لیکورنو کسی سمجھوتے پر نہیں پہنچتے ہیں تو فرانسیسی صدر کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ وہ پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیں اور ایوان میں زیادہ قابل عمل نظام بنانے کی امید میں جلد ہی انتخابات کرانا ہوگا۔

دو روز قبل یورپی کمیشن کی صدر نے بھی وزیرِ اعظم مودی سے رابطہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ’’بھارت کو روس پر دباؤ ڈالنے اور امن کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔‘‘

اپریل میں پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد میکرون نے 12 جون کو وزیر اعظم مودی سے فون پر رابطہ کیا تھا، اس دوران انہوں نے کہا تھا کہ فرانس اس مشکل وقت میں ہندوستان اور اس کے شہریوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ فرانس اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔

فرانس کے وزیر خارجہ جین نول باروٹ نے اس ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ فرانس جمعہ سے غزہ کے لیے 40 ٹن امداد ہوائی جہاز سے گرائے گا۔

غزہ جنگ کے بعد اسپین، ناروے، آئرلینڈ اور سلووینیا نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا ہے۔ ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے میکرون کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دو ملکی حل ہی واحد راستہ ہے۔

ایران پر اسرائیل کے حملوں کو فرانس نے غلط بتایا ہے۔ صدر ایمینوئل میکرون نے ایرانی ہم منصبے پیزشکیان سے بات چیت میں کہا ہے کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام میں مداخلت کا اسرائیل کو کوئی حق نہیں ہے۔

ٹرمپ نے ’ٹرتھ‘ سوشل پر لکھا، ’’پبلسٹی سیکر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے غلطی سے کہا کہ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ’جنگ بندی‘ پر کام کرنے کے لیے کینیڈا میں جی 7 سربراہی اجلاس سے واپس ڈی سی چلا گیا۔‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی-7 سربراہی اجلاس درمیان میں ہی چھوڑکرچلے گئے۔ اب انہوں نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون پر بھی تنقید کی ہے۔

فرانس میں اس سے قبل کئی بار اسلام اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی کوشش توہین آمیز خاکے شائع کر کے کی جا چکی ہے۔ تاہم اب مسجد کو نشانہ بنایا گیا ہے اور نمازیوں کا خون بہایا گیا ہے۔

ہندوستان میں فرانسیسی سفارت خانے نے (Ghibli Bandwagon)جبلی بینڈ ویگن کے ذریعے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور وزیر اعظم نریندر مودی کی جبلی طرز کی ایک خوشگوار تصویر شیئر کی ہے۔