Bharat Express DD Free Dish

Emmanuel Macron

وزیر اعظم مودی اور صدر میکرون نے بھارت اور فرانس کی دوستی کو اب ’عوام دوست شراکت داری‘ میں تبدیل کر دیا ہے۔ سال 2026 کو ’سالِ اختراع‘ کے طور پر مناتے ہوئے دونوں ممالک نے دفاع، مصنوعی ذہانت اور خلائی شعبے میں بڑے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اپنے تین روزہ دورۂ بھارت کے دوران ممبئی میں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور بھارت کے عالمی کردار کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا کی کئی بڑی عالمی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران بھارتی نژاد ہیں، جو بھارت کی صلاحیت اور قیادت کا ثبوت ہے۔

بھارت اور فرانس نے منگل کو اپنی دیرینہ دوستی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو ”خصوصی عالمی اسٹریٹجک شراکت داری“ تک اپ گریڈ کرنے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ وزیراعظم نریندر مودی اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد سامنے آیا۔

وزیراعظم مودی اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ممبئی میں انڈیا-فرانس انوویشن فورم 2026 کا مشترکہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے دو بڑے انوویشن حب آج ایک ساتھ آ رہے ہیں اور بھارت و فرانس کا تعلق صرف انوویشن تک محدود نہیں بلکہ باہمی اعتماد اور مشترکہ اقدار پر بھی قائم ہے۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے تین روزہ دورۂ بھارت کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت اور فرانس کی شراکت داری کی کوئی حد نہیں۔ دونوں لیڈروں کے درمیان فری ٹریڈ معاہدے، اسٹریٹجک تعاون اور ہائی آلٹیٹیوڈ ہیلی کاپٹر منصوبے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

تین روزہ دورے پر بھارت آئے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ممبئی کے اقتصادی اور ثقافتی ماحول کی بھرپور تعریف کی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس ملاقات کی تصویر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ میکرون نے کہا کہ انہیں ممبئی بہت پسند ہے اور آج صبح انہوں نے شہر میں دوڑ (جاگنگ) کا بھی لطف اٹھایا۔

اپنے پیغام میں وزیر اعظم  مودی نے مزید کہا کہ انہیں یقین ہے کہ دونوں لیڈروں کے درمیان ہونے والی بات چیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کرے گی اور عالمی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور فرانس کے صدر ایمانویل میکرون کُرناتک کے ویمگل میں ٹاٹا ایئر بس کی ایچ-125 ہیلی کاپٹر اسمبلی لائن کا ورچوئل افتتاح کریں گے۔ اس اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کی مکمل جانچ پڑتال ہوگی،

وزارت خارجہ کے مطابق اس دورے کے دوران دونوں رہنما “ہوری زون 2047 روڈ میپ” کے تحت دفاع، تجارت، توانائی اور انڈو پیسیفک خطے میں تعاون سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور ڈنمارک کی سلطنت کے تحت ایک خودمختار علاقہ ہے، جہاں دفاع اور خارجہ پالیسی کا اختیار کوپن ہیگن کے پاس ہے۔ امریکہ کا اس جزیرے پر ایک فوجی اڈہ بھی موجود ہے۔ سال 2025 میں اقتدار میں واپسی کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ کئی بار گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔