Bharat Express DD Free Dish

Emmanuel Macron

بھارت اور فرانس نے مصنوعی ذہانت کے ضابطہ کار، معیار سازی اور تکنیکی امور میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے، تاکہ جدید اور جنریٹو اے آئی ماڈلز کے لیے خطرات پر مبنی اور ہم آہنگ پالیسیوں کو فروغ دیا جا سکے، جب کہ اختراع اور قومی ترقی کی رفتار بھی متاثر نہ ہو۔

اس موقع پر وزیراعظم مودی نے صدر میکروں کی شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور فرانس عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہمیشہ ایک دوسرے کے قابلِ اعتماد شراکت دار رہے ہیں۔ انہوں نے انٹرنیشنل سولر الائنس، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون اور بھارت-بحرالکاہل خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کا بھی ذکر کیا۔

 اس پروگرام میں 120 سے زائد بھارتی ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس اور 15 سے زیادہ ممتاز اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی ادارے، جن میں آئی آئی ٹیز بھی شامل ہیں، شرکت کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کانکلیو بھارت کے لیے اپنی جدید تکنیکی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پیش کرنے، بین الاقوامی سرمایہ کاری حاصل کرنے اور نئی شراکت داریاں قائم کرنے کا اہم موقع فراہم کرے گا۔

نیس میں وزیراعظم مودی اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کی ملاقات۔ دونوں رہنماؤں نے ٹیکنالوجی، اختراع اور گہرے تکنیکی تعاون کو نئی رفتار دینے پر زور دیا۔

"بھارت اِنوویٹس 2026" کے ذریعے عالمی سرمایہ کاری کو بھی متوجہ کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ وزارت کا ماننا ہے کہ بھارت میں ابھرنے والی نئی ٹیکنالوجیز اور اسٹارٹ اپس عالمی سطح پر بے پناہ امکانات رکھتے ہیں۔ اسی لیے اس پروگرام کے ذریعے بھارتی کاروباری اداروں اور اختراعی منصوبوں کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں، وینچر کیپیٹل فرموں اور صنعتی نمائندوں سے جوڑا جا رہا ہے۔

دورے کا آغاز نیس میں منعقد ہونے والے ’’بھارت انوویٹس‘‘ پروگرام سے ہوگا، جس میں صدر میکرون بھی شریک ہوں گے۔ بھارت اور فرانس اس وقت ’’بھارت-فرانس اختراعی سال‘‘ منا رہے ہیں، اور یہ پروگرام دونوں ممالک کے اختراع کاروں، اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے گا۔اس کے بعد وزیراعظم مودی 14 سے 16 جون تک سلوواکیہ کا سرکاری دورہ کریں گے۔

فرانسیسی بحریہ کی اس کارروائی کے بعد روس اور مغربی ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ روس نے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ فرانس کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائی مکمل طور پر بین الاقوامی پابندیوں اور سمندری قوانین کے مطابق کی گئی ہے۔

فرانس کی درخواست پر بلائے گئے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس اجلاس پر مرکوز ہیں کہ یہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوئی مؤثر راستہ نکال پاتا ہے یا نہیں۔

فرانس کے شہر نیس میں ایک شاندار ‘ڈیپ ٹیکنالوجی’ نمائش کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس اہم بین الاقوامی پروگرام کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون مشترکہ طور پر کریں گے، جسے دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون کی نئی جہت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

۔فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہز آبنائے ہُرم کو فوری، غیر مشروط اور مکمل طور پر کھولا جانا چاہیے اور بین الاقوامی بحری قوانین کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اس معاملے پر آئندہ ہفتے لندن میں مزید اجلاس ہوگا۔