Bharat Express DD Free Dish

Emmanuel Macron

 اس پروگرام میں 120 سے زائد بھارتی ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس اور 15 سے زیادہ ممتاز اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی ادارے، جن میں آئی آئی ٹیز بھی شامل ہیں، شرکت کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کانکلیو بھارت کے لیے اپنی جدید تکنیکی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پیش کرنے، بین الاقوامی سرمایہ کاری حاصل کرنے اور نئی شراکت داریاں قائم کرنے کا اہم موقع فراہم کرے گا۔

نیس میں وزیراعظم مودی اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کی ملاقات۔ دونوں رہنماؤں نے ٹیکنالوجی، اختراع اور گہرے تکنیکی تعاون کو نئی رفتار دینے پر زور دیا۔

"بھارت اِنوویٹس 2026" کے ذریعے عالمی سرمایہ کاری کو بھی متوجہ کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ وزارت کا ماننا ہے کہ بھارت میں ابھرنے والی نئی ٹیکنالوجیز اور اسٹارٹ اپس عالمی سطح پر بے پناہ امکانات رکھتے ہیں۔ اسی لیے اس پروگرام کے ذریعے بھارتی کاروباری اداروں اور اختراعی منصوبوں کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں، وینچر کیپیٹل فرموں اور صنعتی نمائندوں سے جوڑا جا رہا ہے۔

دورے کا آغاز نیس میں منعقد ہونے والے ’’بھارت انوویٹس‘‘ پروگرام سے ہوگا، جس میں صدر میکرون بھی شریک ہوں گے۔ بھارت اور فرانس اس وقت ’’بھارت-فرانس اختراعی سال‘‘ منا رہے ہیں، اور یہ پروگرام دونوں ممالک کے اختراع کاروں، اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے گا۔اس کے بعد وزیراعظم مودی 14 سے 16 جون تک سلوواکیہ کا سرکاری دورہ کریں گے۔

فرانسیسی بحریہ کی اس کارروائی کے بعد روس اور مغربی ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ روس نے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ فرانس کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائی مکمل طور پر بین الاقوامی پابندیوں اور سمندری قوانین کے مطابق کی گئی ہے۔

فرانس کی درخواست پر بلائے گئے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس اجلاس پر مرکوز ہیں کہ یہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوئی مؤثر راستہ نکال پاتا ہے یا نہیں۔

فرانس کے شہر نیس میں ایک شاندار ‘ڈیپ ٹیکنالوجی’ نمائش کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس اہم بین الاقوامی پروگرام کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون مشترکہ طور پر کریں گے، جسے دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون کی نئی جہت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

۔فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہز آبنائے ہُرم کو فوری، غیر مشروط اور مکمل طور پر کھولا جانا چاہیے اور بین الاقوامی بحری قوانین کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اس معاملے پر آئندہ ہفتے لندن میں مزید اجلاس ہوگا۔

میکرون نے اپنے پیغام میں لکھا کہ انہوں نے ایرانی صدر کو یاد دلایا کہ فرانس اپنے قومی مفادات، خطے میں موجود اپنے شراکت داروں اور بین الاقوامی سمندری راستوں پر آزادانہ نقل و حرکت کے تحفظ کے لیے پوری طرح دفاعی اقدامات کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی صورت میں فرانس یا اس کے مفادات کو نشانہ بنانا قابل قبول نہیں ہوگا۔

وزیراعظم مودی نے متحدہ عرب امارات، اسرائیل، سعودی عرب، اردن، بحرین، عمان، کویت اور قطر کے رہنماؤں سے بھی بات چیت کی۔ ان گفتگوؤں کے دوران انہوں نے حالیہ حملوں کی سخت مذمت کی اور ان ممالک میں مقیم بھارتی شہریوں کی سلامتی کے بارے میں دریافت کیا۔