Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

سی ایم فڑنویس نے کہا کہ ٹرمپ جو بھی کہیں، مودی جی عظیم ہیں۔ ساری دنیا کے لیڈر انہیں عظیم مانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کا ہندوستان مودی جی کا ہندوستان ہے جو اپنی خارجہ پالیسی خود طے کرتا ہے اور کسی کے دباؤ میں نہیں آتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کا ’ترقی یافتہ بھارت‘ بننے کا سفر رکنے والا نہیں ہے۔

پی ایم مودی نے ٹرمپ کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایکس  پر لکھا کہ وہ امریکی صدر کے جذبات اور تعلقات کے مثبت جائزے کی گہری قدر کرتے ہیں اور اس کا مکمل طور پر ساتھ دیتے ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ نے بھارت پر ٹیرف لگانے کے فیصلے کا دفاع کیا، لیکن انہوں نے پی ایم مودی کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو واضح طور پر اجاگر بھی کیا۔ انہوں نے کہا، "میں مودی جی کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رکھتا ہوں۔ وہ ایک عظیم انسان ہیں۔ کچھ مہینے پہلے وہ یہاں (امریکہ) آئے تھے۔"

یہ فیصلہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں ایک محتاط توازن کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ایک طرف وہ روس جیسے پرانے اتحادی کے ساتھ اپنے تعلقات کو قائم رکھنا چاہتا ہے، تو دوسری طرف امریکہ جیسے اہم تجارتی شراکت دار سے تعلقات کو بھی خراب نہیں کرنا چاہتا۔

ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھی ہاورڈ لٹنک نے بھارت کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا موجودہ رویہ زیادہ دن نہیں چلے گا، بالآخر اُسے بات چیت کی میز پر آنا ہی پڑے گا۔ ابتدا میں بڑے گاہکوں سے ٹکرانا اچھا لگتا ہے،

دوسری جانب، صدر مادورو نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے امریکہ پر وینیزویلا کے خلاف فوجی جارحیت کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کی اصل نیت وینیزویلا میں حکومت کا تختہ الٹنا ہے

بولٹن نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ نے پاک بھارت تنازعہ کا پورا کریڈٹ لینے کی کوشش کی جس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب کشمیر میں دہشت گردانہ حملے کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھی تو پہلے تو حالات خراب ہوئے لیکن بعد میں پرسکون ہوگئے۔ ٹرمپ نے اس کا پورا کریڈٹ لیا اور کہا کہ انہوں نے اس سال چھ یا سات جنگوں کو روکا جس کے لیے وہ امن کے نوبل انعام کے حقدار ہیں۔ اس سے بھارت سخت ناراض ہے۔

’’ہم بھارت کے ساتھ بہت کم کاروبار کرتے ہیں، لیکن وہ ہمارے ساتھ بے پناہ کاروبار کرتے ہیں۔ وہ ہمیں اپنی سب سے بڑی منڈی سمجھتے ہیں مگر ہم انہیں بہت کم بیچتے ہیں — یہ دہائیوں سے مکمل طور پر یک طرفہ تعلق رہا ہے۔‘‘

’نیو یارک ٹائمز‘ کی رپورٹ میں دعویٰ، امریکی صدر کا دورۂ ہند منسوخ، دونوں حکومتوں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

امریکہ کا الزام ہے کہ بھارت روسی خام تیل خرید کر ماسکو کو اقتصادی مدد فراہم کر رہا ہے، اور اس طرح بالواسطہ طور پر یوکرین جنگ کو "ایندھن" فراہم کر رہا ہے۔ واشنگٹن نے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف لگا دیا ہے۔