Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

یہ تبدیلی امریکہ میں بھارتی IT پروفیشنلز اور دیگر غیر ملکی ہنرمندوں کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہے، اور اگلے کچھ دنوں میں اس پر عالمی سطح پر مزید ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔

افغان وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ افسر ذاکر جلالی نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ’’افغان عوام نے تاریخ میں کبھی کسی غیر ملکی فوجی موجودگی کو قبول نہیں کیا۔ دوحہ معاہدے میں بھی یہ بات طے ہو چکی ہے۔‘‘

ٹرمپ کا موجودہ مؤقف ان کے سابقہ سخت بیانات کے بالکل برعکس ہے، جن میں وہ بھارت کو روس کے ساتھ تیل کی تجارت پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

بنجمن نیتن یاہو نے کہا:پی ایم مودی، میرے عزیز دوست نریندر، میں آپ کو سالگرہ کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں جلد ہی آپ سے ملاقات کروں گا، کیونکہ ہمیں اپنی شراکت داری اور دوستی کو نئی بلندیوں تک لے جانا ہے۔ سالگرہ مبارک ہو، میرے دوست۔

ٹرمپ نے اس پیغام پر اپنے ابتدائی حروف (DJT - Donald John Trump) سے دستخط کیے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ گفتگو ذاتی اور دوستانہ نوعیت کی تھی۔

امریکی تجارتی وفد برینڈن لنچ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی ٹیم کے ساتھ بھارت پہنچا ہے۔ بھارتی جانب سے وزارتِ تجارت کے افسران بھی ملاقات میں شامل ہوں گے۔

پی ایم نریندر مودی نے لکھا:"بھارت اور امریکہ قریبی دوست اور فطری شراکت دار ہیں۔مجھے یقین ہے کہ ہماری تجارتی گفتگو بھارت-امریکہ شراکت داری کی بے شمار امکانات کو اجاگر کرنے کا راستہ ہموار کرے گی۔

یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب حال ہی میں روس سے تیل خریدنے کے معاملے پر امریکہ نے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس قدم کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ بڑھتا نظر آ رہا تھا۔

ڈونالڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں پی ایم مودی کو اپنا دوست کہا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مودی کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔ اس دوران انہوں نے پی ایم مودی کی تعریف کرتے ہوئے انہیں عظیم لیڈر قرار دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے رک سانچیز نے ان کے دوہرے معیار کی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹرمپ پوٹن سے ملتے ہیں تو وہ درست ہے، بیجنگ سے بات کر کے ٹیرف کی تاریخ آگے بڑھا رہے ہیں،