Bharat Express DD Free Dish

US clarifies $100000 H-1B visa fee: امریکہ نے 1 لاکھ ڈالر کی H-1B ویزا فیس پر پیش کی وضاحت، موجودہ ویزا ہولڈرز رہیں گے مستثنیٰ

ٹرمپ نے 19 ستمبر کو اس حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد ’امریکی شہریوں کے لیے روزگار کو فروغ دینا‘ ہے۔ حالانکہ، اس فیصلے سے موجودہ ویزا ہولڈرز میں الجھن پیدا ہو گئی تھی کہ وہ دوبارہ امریکہ واپس جا سکیں گے یا نہیں۔

امریکہ نے 1 لاکھ ڈالر کی H-1B ویزا فیس پر پیش کی وضاحت۔

واشنگٹن: غیر ملکی پیشہ ور افراد کو بڑی راحت دیتے ہوئے امریکی محکمۂ داخلہ (DHS) نے H-1B ویزا کے لیے 1 لاکھ ڈالر کی درخواست فیس پر نئی گائیڈ لائنس جاری کیا ہے، جس میں متعدد چھوٹ اور استثنا شامل کیے گئے ہیں۔

کس پر نہیں لاگو ہوگی فیس؟

نئی گائیڈ لائنس کے مطابق، جو افراد F-1 (طالب علم) ویزا سے H-1B ویزا کیٹیگری میں منتقل ہو رہے ہیں، انہیں یہ بھاری فیس ادا نہیں کرنی ہوگی۔ اسی طرح، امریکہ کے اندر رہتے ہوئے ویزا میں ترمیم، حیثیت میں تبدیلی یا مدت میں توسیع کے لیے درخواست دینے والے H-1B ویزا ہولڈرز پر بھی یہ فیس لاگو نہیں ہوگی۔

اس کے علاوہ، موجودہ H-1B ویزا رکھنے والے افراد کو ملک میں آنے جانے پر کسی طرح کی پابندی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ یہ فیس صرف ان نئے درخواست دہندگان پر لاگو ہوگی جو امریکہ کے باہر ہیں اور جن کے پاس پہلے سے درست H-1B ویزا نہیں ہے۔ نئی درخواست کے لیے آن لائن ادائیگی کا لنک بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی چیمبر آف کامرس نے اس فیصلے کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ دائر کیا ہے۔ تنظیم نے اس فیس کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکی کاروباروں پر ’سنگین معاشی اثر‘ پڑے گا، اور کمپنیوں کو یا تو اپنے لیبر اخراجات میں نمایاں اضافہ کرنا پڑے گا یا پھر ہنرمند غیر ملکی ملازمین کی بھرتی کم کرنی پڑے گی۔

ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف یہ دوسرا بڑا قانونی چیلنج ہے۔ اس سے قبل مزدور یونینوں، تعلیمی ماہرین اور مذہبی اداروں کے ایک گروپ نے بھی 3 اکتوبر کو مقدمہ دائر کیا تھا۔

ٹرمپ نے 19 ستمبر کو اس حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد ’امریکی شہریوں کے لیے روزگار کو فروغ دینا‘ ہے۔ حالانکہ، اس فیصلے سے موجودہ ویزا ہولڈرز میں الجھن پیدا ہو گئی تھی کہ وہ دوبارہ امریکہ واپس جا سکیں گے یا نہیں۔

وائٹ ہاؤس نے 20 ستمبر کو آئی اے این ایس سے بات چیت میں کہا تھا کہ یہ ’ایک بار لی جانے والی فیس‘ ہے، جو صرف نئے ویزا درخواست دہندگان پر لاگو ہوگی، نہ کہ تجدید یا موجودہ ویزا ہولڈرز پر۔

قابل ذکر ہے کہ 2024 میں ہند نژاد پیشہ ور افراد کو منظور شدہ H-1B ویزا میں 70 فیصد سے زیادہ حصہ ملا تھا۔ اس کی وجہ ویزا منظوری میں زیرِ التواء معاملات کا بھاری بیک لاگ اور بھارت سے آنے والے اعلیٰ مہارت والے درخواست دہندگان کی بڑی تعداد تھی۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read