Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت جنگ بندی اب حماس کے فیصلے پر منحصر ہے۔ دریں اثنا، اسرائیل نے انخلاء کی لائن پر اتفاق کیا ہے۔ دوسری جانب، ٹرمپ نے حماس سے کہا ہے کہ وہ فوری طورپر اس تجویزکو قبول کرے۔ اس نے حماس کوشام 6 بجے تک کا وقت دیا ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ کسی قسم کی تاخیربرداشت نہیں کی جائے گی۔

اگرچہ بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی امور پر اختلافات پائے جاتے ہیں، لیکن عالمی امن کے معاملے میں دونوں رہنما ایک دوسرے کے اقدامات کو سراہنے سے گریز نہیں کرتے۔

منصوبے میں فوری جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی محفوظ رہائی اور مسلسل انسانی امداد کی فراہمی کو مرکزی نکات کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جب کہ اس کا حتمی مقصد غزہ کو خوشحالی اور پائیدار امن کا مظہر بنانا ہے۔

اس حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ قطر کی علاقائی سالمیت اور سلامتی کو بیرونی حملوں سے بچانا امریکہ کی اولین ترجیح ہے۔ اگر قطر پر کوئی مسلح حملہ ہوتا ہے، تو امریکہ اسے اپنی سیکورٹی اور امن کے لیے خطرہ تصور کرے گا، اور اس کے خلاف سفارتی، اقتصادی اور فوجی کارروائی کرے گا۔

ٹرمپ نے اس شٹ ڈاؤن کے لیے ڈیموکریٹس کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ وہ پہلے ہی سرکاری ملازمین کو نوکری سے نکالنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ 9 لاکھ ملازمین کو جبراً چھٹی پر بھیجنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

غزہ میں جاری شدید تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک جامع 21 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا ہے، جس کا مقصد نہ صرف جنگ بندی کروانا ہے بلکہ غزہ کی مستقبل کی حکمرانی اور انتظامی ڈھانچے کو بھی واضح کرنا ہے۔

اپنی ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ:"ہم یکم اکتوبر سے تمام کچن کبینیٹس، باتھ روم وینٹیز اور اس سے متعلقہ مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف لگائیں گے۔ جبکہ اپہولسٹرڈ فرنیچر پر 30 فیصد، اور بیرون ملک سے درآمد کیے جانے والے بھاری ٹرکوں پر 25 فیصد ٹیرف لگے گا۔"

یہ بیان ٹرمپ نے نیویارک میں عرب اور مسلم ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد دیا۔ اس اہم ملاقات میں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے نمائندے بھی شامل تھے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی ٹیرِف کو لے کر تناؤ رہا ہے، اور اب ویزا معاملات میں بھی ہلچل دکھائی دے رہی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی ہے، جس کے بعد امید ہے کہ ان مسائل کا جلد کوئی حل نکلے گا۔

2021 میں امریکی فوج کی واپسی کے بعد افغانستان میں سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ رہے بگرام ایئربیس پر طالبان نے قبضہ کر لیا تھا۔ اسی دوران، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے لندن میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ ہم بگرام ایئربیس کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں لینا چاہتے ہیں۔