امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا پر ٹیرف میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے، جس سے کل محصولات 45 فیصد ہو گئے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ فیصلہ کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں شائع ہونے والے ایک اشتہار کے جواب میں کیا۔ کینیڈا سے شائع ہونے والے اس اشتہار میں سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کا ایک ویڈیو کلپ دکھایا گیا ہے، جس میں وہ تجارتی جنگوں اور اقتصادی بحرانوں کی وجہ بتاتے ہوئے محصولات کے خلاف سختی سے خبردار کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اب اس اشتہار پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے گمراہ کن اور غلط قرار دیا ہے۔ اس کے بعد اس نے کینیڈا پر اضافی 10 فیصد ٹیرف کا اعلان کیا۔
ٹیرف کی شرحوں میں مزید 10 فیصد اضافہ کر رہا ہوں: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ معلومات اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شیئر کی۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ ان کے اقدامات دشمنانہ ہیں۔ لہذا میں کینیڈا پرعائد موجودہ ٹیرف کی شرحوں میں مزید 10 فیصد اضافہ کر رہا ہوں۔
کینیڈا امریکہ تجارتی مذاکرات تعطل کا شکار
اس سے قبل امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات اس اشتہار کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے کہا کہ وہ اگلے ہفتے اشتہار ہٹا دیں گے، لیکن ٹرمپ نے انکار کر دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ اشتہار ورلڈ سیریز کے ایک کھیل سے پہلے ہی نشرہوچکا تھا، جس سے اب صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔
کینیڈین وزیر اعظم کی تجویز پر وائٹ ہاؤس خاموش
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کے عائد کردہ محصولات کی وجہ سے منقطع ہیں۔ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے جمعہ کے روز امریکہ اور کینیڈا تجارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تجویز پیش کی تھی، لیکن وائٹ ہاؤس کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا ہے۔
کینیڈا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار
کینیڈا امریکہ کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے یہ ٹیرف میں اضافہ امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ رواں سال جولائی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے درآمد کی جانے والی اشیا پر ٹیکس 25 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کر دیا تھا جو اب 45 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


