Bharat Express DD Free Dish

Us military attack Caribbean sea: وینزویلا سے کشیدگی کے درمیان امریکہ کی بڑی کارروائی، کیریبین سمندر میں مشتبہ منشیات کی کشتی پر فوجی حملہ

امریکی فوج نے کیریبین سمندر میں ایک فوجی کارروائی کی ہے۔ یہ حملہ ایک مشتبہ منشیات اسمگلنگ والی کشتی پر کیا گیا ہے۔ اس حملے میں کچھ لوگ زندہ بھی بچ گئے ہیں۔ اس کے بعد امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات میں مزید کشیدگی بڑھنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

وینزویلا کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایک بار پھر امریکی فوج نے کیریبین سمندر میں فوجی کارروائی کی ہے۔ یہ حملہ ایک مشتبہ منشیات اسمگلنگ کرنے والی کشتی پر کیا گیا۔ اس حملے میں کچھ لوگ زندہ بھی بچ گئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات میں مزید کشیدگی بڑھنے کے اندیشے دکھائی دے رہے ہیں۔خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق، ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی فوج کی اس کارروائی کے بارے میں زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ اب تک یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ جو افراد اس حملے میں زندہ بچے ہیں، ان کو کوئی مدد فراہم کی گئی یا وہ امریکی حراست میں ہیں۔

پہلے بھی کر چکا ہے حملہ

امریکی فوج اس سے پہلے بھی کیریبین سمندر میں وینزویلا کے نزدیک کئی مشتبہ کشتیوں پر حملے کر چکی ہے، جن میں تقریباً 27 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی محکمہ دفاع نے ان افراد کو ’نارکو ٹیررسٹ‘ یعنی منشیات سے وابستہ دہشت گرد قرار دیا تھا۔ تاہم، امریکی فوج کی ان کارروائیوں پر کئی قانونی ماہرین نے سوالات اٹھائے ہیں۔

ٹرمپ نے وینزویلا کی حکومت کو قرار دیا غیر قانونی

قابلِ ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لووِٹ نے مادورو پر غیر قانونی حکومت چلانے کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مادورو وینزویلا کے عوام کی نمائندگی کا حق نہیں رکھتے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے منشیات سے وابستہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ میں امریکہ پہلے سے شامل ہے، اس لیے ان حملوں کی قانونی حیثیت پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ان حملوں کی ویڈیوز بھی خود سوشل میڈیا پر شیئر کی تھیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read