Bharat Express DD Free Dish

US military

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی تازہ حملوں کے جواب میں بحرین، کویت اور اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں، فوجی وسائل اور دیگر عسکری تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹم ہاکنز کے مطابق، حملوں میں ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے میزائل لانچ کیے جا سکتے تھے، جبکہ ان ایرانی کشتیوں پر بھی کارروائی کی گئی جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے ڈرون کے ذریعے اسرائیل سے منسلک ایک جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے بعد اس میں آگ لگ گئی۔ آئی آر جی سی کے سرکاری میڈیا پلیٹ فارم سپاہ نیوز کے مطابق یہ حملہ بحرین کی ایک بندرگاہ میں اسرائیلی ملکیت کے تجارتی جہاز پر کیا گیا۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے وینزویلا کے خلاف امریکہ کی جانب سے کی گئی حالیہ فوجی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ایک خطرناک اور جارحانہ اقدام قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ قومی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور عالمی امن کو مجروح کرتا ہے۔

امریکی فوج نے کیریبین سمندر میں ایک فوجی کارروائی کی ہے۔ یہ حملہ ایک مشتبہ منشیات اسمگلنگ والی کشتی پر کیا گیا ہے۔ اس حملے میں کچھ لوگ زندہ بھی بچ گئے ہیں۔ اس کے بعد امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات میں مزید کشیدگی بڑھنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

امریکہ کے شہر ٹینیسی میں ایک فوجی دھماکہ خیز مواد کے پلانٹ میں زوردار دھماکہ ہوا۔ تباہ کن دھماکے میں 19 افراد کے ہلاک یا لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔

جمعے کے روز بھی حوثی انتظامیہ کے ترجمان ہاشم شرف الدین نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ-برطانیہ کے فضائی حملے گروپ کو خوفزدہ نہیں کر پائیں گے۔ انہوں نے ’اسرائیل سے منسلک‘ بحری جہازوں اور بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں اسرائیلی علاقوں پر مزید حملوں کی بات کہی۔

بشنیل نے اس المناک واقعے کی ویڈیو کو ٹویچ پر لائیو اسٹریم کیا، لیکن بعد میں اسے ہٹا دیا گیا۔ فوٹیج میں مبینہ طور پر اسے اسرائیلی سفارت خانے کی طرف جاتے ہوئے اور خود پر لکوڈ ڈالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔