Bharat Express DD Free Dish

diplomatic relations

وزارت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس معاملے میں افواہوں اور گمراہ کن اطلاعات سے گریز کیا جائے، کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی کو عطا کیا گیا ’گارڈین آف دی بلیو ہورائزن‘ اعزاز مکمل طور پر مستند ہے اور اس کی حتمی، منظور شدہ اعزازی سند ہی قانونی اور سرکاری حیثیت رکھتی ہے۔

ہندوستان اور جاپان کے تعلقات صدیوں پر محیط تہذیبی، ثقافتی اور روحانی روابط پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات 1952 میں قائم ہوئے، 2000 میں انہیں عالمی شراکت داری، 2006 میں اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری اور 2014 میں خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کا درجہ دیا گیا۔

سنائے تاکائیچی یکم سے 3 جولائی تک تین روزہ سرکاری دورے پر ہندوستان میں ہیں۔ اس دوران وہ 16ویں ہند-جاپان سالانہ سربراہ اجلاس میں شرکت کر رہی ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے تمام شعبوں کا جائزہ لیا جائے گا اور علاقائی و عالمی امور پر بھی تبادلۂ خیال ہوگا۔

آئرلینڈ نے اپنی صدارت کے دوران پانچ بنیادی ترجیحات طے کی ہیں، جن میں غیر ضروری انتظامی بوجھ کم کرکے قوانین کو آسان بنانا، یورپی مشترکہ منڈی کو مزید مضبوط کرنا، قابلِ اعتماد عالمی شراکت داروں کے ساتھ تجارتی تعلقات کو وسعت دینا، یورپ کے توانائی بحران سے نمٹنے کی کوششوں کی حمایت کرنا، اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ و مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبوں میں یورپی یونین کی صلاحیتوں کو مضبوط بنا کر ڈیجیٹل گورننس میں اس کی پوزیشن مستحکم کرنا شامل ہے۔

یہ بھارت کا ان کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔ اس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے اگست 2025 میں ٹوکیو کا دورہ کیا تھا، جہاں 15واں ہند-جاپان سالانہ سربراہ اجلاس منعقد ہوا تھا۔ موجودہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان خصوصی تزویراتی اور عالمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

وزیراعظم مودی کو ماحولیاتی تحفظ، پائیدار ترقی اور سبز معیشت کے فروغ میں خدمات کے اعتراف میں سیشلز کے سب سے بڑے قومی اعزاز سے سرفراز کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک نے بحرِ ہند کے خطے میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے کہا کہ بھارت اور کینیڈا کی معیشتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں اور عالمی توانائی و غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط اور لچکدار سپلائی چین نہایت اہم ہے۔ ملاقات میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی)، مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) اور میٹالرجیکل کوئلے سے متعلق تجارتی انتظامات سمیت اقتصادی تعاون کے مختلف پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم مودی نے اپنے پیغام میں سلوواکیہ کی حکومت اور عوام کی مہمان نوازی اور پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا یہ تاریخی اور نتیجہ خیز دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا اور مضبوط تجارتی روابط خاص طور پر نوجوانوں اور آنے والی نسلوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔

سلوواک روایت کے مطابق وزیراعظم کو بریڈ اور نمک پیش کیا گیا ہے جو خیر سگالی، دوستی اور مہمان نوازی کی علامت مانا جاتا ہے۔  وزیراعظم مودی جی-7 سربراہ اجلاس کے سلسلے میں فرانس کے دورے پر ہیں۔ اسی درمیان وہ سلوواکیہ کی راجدھانی براتسلاوا پہنچے ہیں جہاں روایتی جوش وخروش کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی روابط کو مزید آگے بڑھانے اور دوطرفہ تعلقات کو نئی توانائی فراہم کرنے کا موقع ہے۔ یہ دورہ گزشتہ برس دروپدی مرمو کے سلوواکیہ دورے اور رواں سال فروری میں صدر پیٹر پیلیگرینی کے بھارت کے دورے کے تسلسل میں دیکھا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مسلسل گرمجوشی پیدا ہوئی ہے۔