Bharat Express DD Free Dish

diplomatic relations

وزیراعظم مودی نے رواں سال کے آغاز میں ناروے کے اپنے دورے کے دوران بادشاہ سے ملاقات کو یاد کرتے ہوئے ان کی گرمجوشی اور عوامی خدمت کے لیے ان کی غیر معمولی وابستگی کی تعریف کی۔

وزیراعظم مودی کا یہ بیان اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی جانب سے بھارت کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیے جانے کے بعد سامنے آیا۔ ہرزوگ نے بھارت کی آزادی کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان قریبی دوستی کو سراہا۔

دنیا بھر سے موصول ہونے والے یہ مبارکبادی پیغامات ایسے وقت میں آئے ہیں جب بھارت اپنی آزادی کی 80ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ مختلف ممالک کے رہنماؤں اور حکومتوں نے بھارت کے ساتھ مضبوط شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان پیغامات سے بھارت کے وسیع سفارتی روابط اور دوستی، تعاون، امن اور خوشحالی پر مبنی خطے کے قیام کے لیے اس کی شراکت داری کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے۔

’’رچناتمک کانگریس نیشنل کنوینشن‘‘ میں راہل گاندھی نے مودی حکومت کی سفارتی حکمت عملی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کا کام دوستی نبھانا نہیں بلکہ ملک کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر بھی سخت تنقید کی ہے۔

عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے آیت اللہ خامنہ ای کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عراقی حکومت اور عوام جنازے میں شرکت کو اپنا مذہبی اور اخلاقی فریضہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مرحوم رہنما کو عالم اسلام کی ایک مؤثر شخصیت قرار دیتے ہوئے ایران کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان قدیم سمندری روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور انڈونیشیا کے لیے سمندر کبھی فاصلے کی علامت نہیں رہا بلکہ ہمیشہ دونوں قوموں کو جوڑنے والا ایک مضبوط پل ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہندوستان اور انڈونیشیا کے لیے سمندر نے ہمیشہ ہمیں قریب لانے کا کام کیا ہے اور آئندہ بھی ہمارا مشترکہ مستقبل اسی سے وابستہ ہے۔‘‘ 

وزیر اعظم مودی کا یہ تین روزہ سرکاری دورہ دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لینے اور اسے مزید مستحکم کرنے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔ انڈونیشیا آسیان خطے میں بھارت کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 24.78 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ 130 سے زیادہ بھارتی کمپنیاں انڈونیشیا کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

انڈونیشیا کے دورے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی آسٹریلیا اور پھر نیوزی لینڈ کا بھی دورہ کریں گے۔ بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان تقریباً دو ہزار برس پرانے تہذیبی اور تجارتی تعلقات قائم ہیں۔ 1991 میں بھارت کی ’’لک ایسٹ پالیسی‘‘ اختیار کیے جانے کے بعد سیاسی، دفاعی، سلامتی، تجارتی اور ثقافتی شعبوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں مسلسل وسعت آئی ہے۔

یہ وزیر اعظم مودی کے تین ملکی دورے کا پہلا مرحلہ ہے، جس کے بعد وہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا بھی دورہ کریں گے۔ انڈونیشیا کے صدر پربوو سوبیانتو نے وزیراعظم کا خیرمقدم کیا۔ اس دورے میں دفاع، تجارت، سمندری تعاون اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری پر گفتگو کی توقع ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق تقریب میں آٹھ سربراہانِ مملکت یا حکومت، بارہ ممالک کے پارلیمانی سربراہان اور متعدد وزرائے خارجہ و خصوصی ایلچی شریک ہوئے۔ ایرانی حکام کے مطابق سکیورٹی خدشات کے پیش نظر موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی آخری رسومات میں شریک نہیں ہوئے۔ ایرانی فوجی قیادت نے بھی بیرونی قوتوں کو کسی بھی اشتعال انگیز کارروائی سے باز رہنے کی سخت تنبیہ کی ہے۔