Bharat Express DD Free Dish

diplomatic relations

ولادیمیر پوتن نے پیر کو بھارت اور روس کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ذاتی توجہ اور قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ’خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری‘ مسلسل مستحکم ہو رہی ہے۔

وزیراعظم مودی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت آنے کی دعوت بھی دی۔ انہوں نے ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارتی ذرائع کو ’’وسیع اور متنوع‘‘ بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

بشکیک میں وزیراعظم مودی کی شرکت سے ایس سی او اور وسطی ایشیائی شراکت داروں کے ساتھ بھارت کے تعلقات مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم اس سال اپنے قیام کے 25 سال مکمل کر رہی ہے۔

وزیراعظم مودی نے رواں سال کے آغاز میں ناروے کے اپنے دورے کے دوران بادشاہ سے ملاقات کو یاد کرتے ہوئے ان کی گرمجوشی اور عوامی خدمت کے لیے ان کی غیر معمولی وابستگی کی تعریف کی۔

وزیراعظم مودی کا یہ بیان اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی جانب سے بھارت کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیے جانے کے بعد سامنے آیا۔ ہرزوگ نے بھارت کی آزادی کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان قریبی دوستی کو سراہا۔

دنیا بھر سے موصول ہونے والے یہ مبارکبادی پیغامات ایسے وقت میں آئے ہیں جب بھارت اپنی آزادی کی 80ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ مختلف ممالک کے رہنماؤں اور حکومتوں نے بھارت کے ساتھ مضبوط شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان پیغامات سے بھارت کے وسیع سفارتی روابط اور دوستی، تعاون، امن اور خوشحالی پر مبنی خطے کے قیام کے لیے اس کی شراکت داری کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے۔

’’رچناتمک کانگریس نیشنل کنوینشن‘‘ میں راہل گاندھی نے مودی حکومت کی سفارتی حکمت عملی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کا کام دوستی نبھانا نہیں بلکہ ملک کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر بھی سخت تنقید کی ہے۔

عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے آیت اللہ خامنہ ای کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عراقی حکومت اور عوام جنازے میں شرکت کو اپنا مذہبی اور اخلاقی فریضہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مرحوم رہنما کو عالم اسلام کی ایک مؤثر شخصیت قرار دیتے ہوئے ایران کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان قدیم سمندری روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور انڈونیشیا کے لیے سمندر کبھی فاصلے کی علامت نہیں رہا بلکہ ہمیشہ دونوں قوموں کو جوڑنے والا ایک مضبوط پل ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہندوستان اور انڈونیشیا کے لیے سمندر نے ہمیشہ ہمیں قریب لانے کا کام کیا ہے اور آئندہ بھی ہمارا مشترکہ مستقبل اسی سے وابستہ ہے۔‘‘ 

وزیر اعظم مودی کا یہ تین روزہ سرکاری دورہ دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لینے اور اسے مزید مستحکم کرنے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔ انڈونیشیا آسیان خطے میں بھارت کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 24.78 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ 130 سے زیادہ بھارتی کمپنیاں انڈونیشیا کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔