Bharat Express DD Free Dish

diplomatic relations

وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان قدیم سمندری روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور انڈونیشیا کے لیے سمندر کبھی فاصلے کی علامت نہیں رہا بلکہ ہمیشہ دونوں قوموں کو جوڑنے والا ایک مضبوط پل ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہندوستان اور انڈونیشیا کے لیے سمندر نے ہمیشہ ہمیں قریب لانے کا کام کیا ہے اور آئندہ بھی ہمارا مشترکہ مستقبل اسی سے وابستہ ہے۔‘‘ 

وزیر اعظم مودی کا یہ تین روزہ سرکاری دورہ دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لینے اور اسے مزید مستحکم کرنے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔ انڈونیشیا آسیان خطے میں بھارت کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 24.78 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ 130 سے زیادہ بھارتی کمپنیاں انڈونیشیا کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

انڈونیشیا کے دورے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی آسٹریلیا اور پھر نیوزی لینڈ کا بھی دورہ کریں گے۔ بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان تقریباً دو ہزار برس پرانے تہذیبی اور تجارتی تعلقات قائم ہیں۔ 1991 میں بھارت کی ’’لک ایسٹ پالیسی‘‘ اختیار کیے جانے کے بعد سیاسی، دفاعی، سلامتی، تجارتی اور ثقافتی شعبوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں مسلسل وسعت آئی ہے۔

یہ وزیر اعظم مودی کے تین ملکی دورے کا پہلا مرحلہ ہے، جس کے بعد وہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا بھی دورہ کریں گے۔ انڈونیشیا کے صدر پربوو سوبیانتو نے وزیراعظم کا خیرمقدم کیا۔ اس دورے میں دفاع، تجارت، سمندری تعاون اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری پر گفتگو کی توقع ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق تقریب میں آٹھ سربراہانِ مملکت یا حکومت، بارہ ممالک کے پارلیمانی سربراہان اور متعدد وزرائے خارجہ و خصوصی ایلچی شریک ہوئے۔ ایرانی حکام کے مطابق سکیورٹی خدشات کے پیش نظر موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی آخری رسومات میں شریک نہیں ہوئے۔ ایرانی فوجی قیادت نے بھی بیرونی قوتوں کو کسی بھی اشتعال انگیز کارروائی سے باز رہنے کی سخت تنبیہ کی ہے۔

وزارت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس معاملے میں افواہوں اور گمراہ کن اطلاعات سے گریز کیا جائے، کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی کو عطا کیا گیا ’گارڈین آف دی بلیو ہورائزن‘ اعزاز مکمل طور پر مستند ہے اور اس کی حتمی، منظور شدہ اعزازی سند ہی قانونی اور سرکاری حیثیت رکھتی ہے۔

ہندوستان اور جاپان کے تعلقات صدیوں پر محیط تہذیبی، ثقافتی اور روحانی روابط پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات 1952 میں قائم ہوئے، 2000 میں انہیں عالمی شراکت داری، 2006 میں اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری اور 2014 میں خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کا درجہ دیا گیا۔

سنائے تاکائیچی یکم سے 3 جولائی تک تین روزہ سرکاری دورے پر ہندوستان میں ہیں۔ اس دوران وہ 16ویں ہند-جاپان سالانہ سربراہ اجلاس میں شرکت کر رہی ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے تمام شعبوں کا جائزہ لیا جائے گا اور علاقائی و عالمی امور پر بھی تبادلۂ خیال ہوگا۔

آئرلینڈ نے اپنی صدارت کے دوران پانچ بنیادی ترجیحات طے کی ہیں، جن میں غیر ضروری انتظامی بوجھ کم کرکے قوانین کو آسان بنانا، یورپی مشترکہ منڈی کو مزید مضبوط کرنا، قابلِ اعتماد عالمی شراکت داروں کے ساتھ تجارتی تعلقات کو وسعت دینا، یورپ کے توانائی بحران سے نمٹنے کی کوششوں کی حمایت کرنا، اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ و مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبوں میں یورپی یونین کی صلاحیتوں کو مضبوط بنا کر ڈیجیٹل گورننس میں اس کی پوزیشن مستحکم کرنا شامل ہے۔

یہ بھارت کا ان کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔ اس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے اگست 2025 میں ٹوکیو کا دورہ کیا تھا، جہاں 15واں ہند-جاپان سالانہ سربراہ اجلاس منعقد ہوا تھا۔ موجودہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان خصوصی تزویراتی اور عالمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔