Bharat Express DD Free Dish

Modi-Pezeshkian Talks: بدلتی مغربی ایشیائی صورتحال کے درمیان وزیراعظم مودی اور ایران کے صدرپزشکیان ملاقات میں ’’خصوصی کیمسٹری‘‘: ایم جے اکبر

وزیراعظم مودی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت آنے کی دعوت بھی دی۔ انہوں نے ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارتی ذرائع کو ’’وسیع اور متنوع‘‘ بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

نئی دہلی: سابق مرکزی وزیر مملکت برائے خارجہ امور ایم جے اکبر نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ’’بہت خصوصی کیمسٹری‘‘ پائی جاتی ہے، خاص طور پر مغربی ایشیا میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے پس منظر میں۔ پیر کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں 26ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہ اجلاس کے موقع پر مودی اور پزشکیان کی ملاقات کی اسٹریٹجک اہمیت پر بات کرتے ہوئے اکبر نے حالیہ مکہ معاہدے کا بھی حوالہ دیا، جس پر سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان اتفاق ہوا ہے۔

’بھارت اور ایران کے تعلقات تہذیبی بنیادوں پر قائم‘

ایم جے اکبر کے مطابق امریکی نقطۂ نظر میں علاقائی سلامتی کے نئے اتحاد روایتی امریکی سکیورٹی نظام کے متبادل کے طور پر دیکھے جارہے ہیں، تاہم بھارت اور ایران کے تعلقات اس سے کہیں زیادہ گہری تہذیبی بنیاد رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک براہ راست اور آزادانہ دوطرفہ سفارت کاری کو کثیر ملکی فارمولوں سے زیادہ مؤثر سمجھتے ہیں۔ اکبر نے کہا ’’مکہ معاہدے کے حالیہ تناظر میں وزیر اعظم مودی کی ایرانی صدر سے ملاقات میں ایک بہت خصوصی کیمسٹری پیدا ہو جاتی ہے۔ امریکی یقینی طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ معاہدہ ایران کے حوالے سے امریکی حفاظتی چھتری کا متبادل ہے۔ لیکن وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو بھارت اور ایران تہذیبی ممالک ہیں، جن میں اپنی شناخت اور اعتماد کا گہرا احساس ہے اور جو سمجھتے ہیں کہ دوطرفہ تعلقات کثیر ملکی دکھاوے سے کہیں زیادہ مؤثر ہوتے ہیں۔‘‘

ایران کی نظر میں بھارت ایک آزاد ملک

ایم جے اکبر نے ایران اور پاکستان کے ساتھ بھارت کے تعلقات کے حوالے سے تہران کے نقطۂ نظر پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے ایک سینئر ایرانی سفارت کار کے حوالے سے بتایا کہ ایران بھارت کے اختلاف کو کس طرح دیکھتا ہے۔ اکبر کے مطابق ایرانی سفارت کار نے کہا ’’جب بھارت ایران سے اختلاف کرتا ہے تو تہران میں ہم جانتے ہیں کہ اس کی وجہ بھارت کے قومی مفادات کا ایران کے مفادات سے مختلف ہونا ہے، جو بالکل قابل فہم ہے۔ لیکن جب پاکستان ایران سے اختلاف کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ امریکی ہدایات پر ایسا کر رہا ہے۔‘‘ سابق وزیر مملکت نے مزید کہا کہ ایران پاکستان کو ایک ’’منحصر ریاست‘‘ جبکہ بھارت کو ایک ’’آزاد ملک‘‘ کے طور پر دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ان کا ماننا ہے اور اس کے کافی شواہد بھی موجود ہیں، کہ پاکستان ایک منحصر ریاست ہے جبکہ بھارت ایک آزاد ملک ہے۔‘‘

دو سال بعد مودی۔پزشکیان کی ملاقات

وزیراعظم مودی اور صدر مسعود پزشکیان کے درمیان پیر کو ہونے والی ملاقات تقریباً دو سال بعد پہلی دوطرفہ ملاقات تھی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو وسعت دینے، تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بھارت نے مغربی ایشیا میں طویل مدتی امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے بات چیت اور سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔  وزیراعظم مودی نے مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے درمیان تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سمندری جہازوں کے عملے اور عام شہریوں کو کسی بھی صورت نقصان نہیں پہنچایا جانا چاہیے۔ مودی نے ایران کو یہ بھی بتایا کہ بھارت برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم سمیت کثیر ملکی تنظیموں میں تہران کے ساتھ قریبی تعاون کے لیے تیار ہے۔

پزشکیان کو بھارت آنے کی دعوت

وزیراعظم مودی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت آنے کی دعوت بھی دی۔ انہوں نے ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارتی ذرائع کو ’’وسیع اور متنوع‘‘ بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مغربی ایشیا کی علاقائی سیاست میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور بھارت ایران کے ساتھ اپنے تاریخی اور تزویراتی تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read